غزہ : غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غذائی قلت کی وجہ سے مزید 11 افراد شہید ہو گئے ہیں جبکہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 38 افراد کی زندگیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 212 ہو گئی ہے، جن میں 98 بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی حملوں میں 491 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، اسرائیل نے فلسطینی شہریوں کو غزہ شہر سے انخلا کے لیے 7 اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ اس کے تحت، اسرائیلی حکومت غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ اصولوں پر مبنی ایک نئے منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس میں غزہ کے سکیورٹی کنٹرول کو سنبھالنا شامل ہے۔ ابتدائی طور پر، اس منصوبے کا مقصد غزہ شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے، جس کے بعد تقریباً 10 لاکھ فلسطینی باشندوں کو جنوب کی طرف منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی کابینہ کی منظوری کے بعد، اسرائیلی حکومت نے اپنے متنازع منصوبے کی تفصیلات میڈیا میں جاری کی ہیں، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس منصوبے کو عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے خلاف قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے حق خودارادیت کا احترام کرتے ہوئے جلد از جلد اپنی قبضہ کاری ختم کرنی چاہیے۔
اس شدید بحران کے دوران عالمی برادری کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔