Get Alerts

نیتن یاہو کی غزہ پر فوجی کنٹرول کی پالیسی پر اسرائیلی حکومت میں شدید اختلافات، وزیر خزانہ کی حکومت گرانے کی دھمکی

نیتن یاہو کی غزہ پر فوجی کنٹرول کی پالیسی پر اسرائیلی حکومت میں شدید اختلافات، وزیر خزانہ کی حکومت گرانے کی دھمکی

یروشلم :  اسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو کی جانب سے غزہ پر فوجی کنٹرول کی تجویز کو سکیورٹی کابینہ سے منظوری ملنے کے بعد اسرائیلی حکومت میں شدید سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ وزیر خزانہ بذلیل اسموٹرچ نے سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں حکومت گرانے اور نئے انتخابات کی دھمکی دے دی ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت جنگ کے اصل اہداف سے پیچھے ہٹتی ہے تو یہ اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے اس امید پر تحفظات نظر انداز کرتے رہے کہ فوج مکمل کامیابی کی جانب بڑھ رہی ہے، مگر اب وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت پر ان کا اعتماد ختم ہو چکا ہے۔

اسموٹرچ نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک موجودہ صورت حال میں عوام کو فیصلے کا اختیار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا "مجھے یقین نہیں کہ وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیلی فوج کو فیصلہ کن فتح کی جانب لے جا سکتے ہیں، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ اس سمت جانا ہی نہیں چاہتے۔"

دوسری جانب ریلیجیس صیہونیت پارٹی کے رکن پارلیمنٹ زوی سوکوٹ نے بھی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ کے اہداف ترک کیے گئے تو وہ بھی حکومت گرانے کے لیے ووٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا "اگر ہم 6 اکتوبر 2023 کی صورتحال پر واپس جاتے ہیں تو یہ اسرائیل کے لیے وجودی خطرہ ہوگا، ایسی صورت میں فوری انتخابات ضروری ہوں گے۔"

یاد رہے کہ دو روز قبل اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے وزیراعظم نیتن یاہو کی اس تجویز کی منظوری دی تھی کہ غزہ میں حماس کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فوج کا محدود کنٹرول قائم رکھا جائے گا۔ تاہم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد غزہ پر مکمل قبضہ نہیں بلکہ حماس کو بے دخل کر کے وہاں ایک نئی سول انتظامیہ قائم کرنا ہے، جس میں نہ حماس اور نہ فلسطینی اتھارٹی کی کوئی گنجائش ہو گی۔

موجودہ اختلافات نے نیتن یاہو کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت کو شدید سیاسی بحران سے دوچار کر دیا ہے، اور اگر اتحادی جماعتیں علیحدہ ہو گئیں تو حکومت کا خاتمہ اور نئے انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہو جائے گا۔

ٹیگز: