تل ابیب : مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران اور غزہ کے حوالے سے انتہائی سخت اور جارحانہ موقف اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے ایران کو وارننگ دینے کے ساتھ ساتھ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کی عسکری تیاریوں اور دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کرنے کی جرات کی تو ہم ایسا جواب دیں گے جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا ہوگا۔
نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیل اپنی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے اور ایرانی خطرات کا مقابلہ پوری قوت سے کیا جائے گا۔نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے عالمی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے درج ذیل اعلان کیا ہے:
ان کاکہنا تھا کہ ہم غزہ میں کسی صورت فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیں گے۔
اسرائیل غزہ کی پٹی پر اپنا مکمل سکیورٹی کنٹرول برقرار رکھے گا اور یہ پالیسی مستقل بنیادوں پر لاگو رہے گی۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ غزہ میں ترک یا قطری فوجیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور امن و امان کا کنٹرول صرف اسرائیل کے پاس رہے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ ایران کو ڈیل پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور سعودی عرب جارحیت کی مخالفت کر رہا ہے۔ اسرائیل کے اس سخت موقف سے خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔