واشنگٹن: امریکی فضائیہ میں گذشتہ ایک سال کے دوران خود کشی کے واقعات نے حکام کو پریشان کردیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ابتدائی غیر مطبوعہ اعداد و شمار میں کہا گیا کہ گذشتہ سال امریکی فضائیہ میں خودکشیوں کی تعداد تین دہائیوں کی بلند ترین سطح پر آگئی ، جب کہ دیگر فوجی سروسز اور شعبوں میں بھی خود کشی کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔فضائیہ میں خودکشی کی شرح میں اضافے کی وجوہات کو پوری طرح سے سمجھا نہیں جا سکا ہے۔
گذشتہ کئی برسوں سے امریکی فوج میں خود کشی کی روک تھام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود خود کشی کا بڑھتا رجحان پریشان کن ہے۔ ایک طرف فوج اور دوسری طرف امریکی شہریوں میں خود کشی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق فضائیہ کے 84 اہلکاروں نے خود کشی جب کہ سال 2018 میں یہ تعداد 60 تھی۔پچھلے پانچ سال میں امریکی فضائیہ میں اوسطاً 60 سے 64 اہلکار خود کشی کرتے رہے مگر گذشتہ سال خود کشی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
دریں اثنا ایئر فورس کے عہدیداروں 2019 میں خود کشی کے کیسز میں اضافے کا اعتراف کیا ہے۔ایئر فورس میں افرادی قوت اور سروسز کے ڈپٹی چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل برائن کیلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خود کشی ایک مشکل قومی مسئلہ ہے جس کی آسانی سے نشاندہی نہیں کی جاسکتی۔