ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے 13ویں عام انتخابات سے قبل جنوبی ایشیا کے تزویراتی منظر نامے میں بڑی تبدیلیوں کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد بھارت کا اثرورسوخ کم ہو رہا ہے جبکہ چین نے ایک مضبوط اقتصادی اور دفاعی شراکت دار کے طور پر اپنی جگہ بنا لی ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، چین اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت بھارت کے حساس 'سلی گوری کوریڈور' (چکنز نیک) کے قریب ڈرون مینوفیکچرنگ پلانٹ لگایا جائے گا۔ چین بنگلہ دیش کو مکمل ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔نئی دہلی نے اس منصوبے کو اپنی علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں تناؤ کا فائدہ براہِ راست چین کو پہنچ رہا ہے۔ چین بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بن چکا ہے، جس کے ساتھ سالانہ تجارت 18 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ بنگلہ دیش کی تقریباً 95 فیصد درآمدات کا تعلق چینی مصنوعات سے ہے۔
شیخ حسینہ کی رخصتی کے بعد بھارتی کمپنیوں کے نئے معاہدے رک گئے ہیں، جبکہ چینی سرمایہ کاروں نے انفراسٹرکچر میں اربوں ڈالر کے منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے۔بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور جماعتِ اسلامی جیسے بڑے سیاسی گروپوں کا رجحان بھارت کے بجائے چین اور پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت نے پاکستان کے ساتھ براہِ راست پروازیں اور تجارتی روابط بحال کر دیے ہیں۔ عوامی لیگ کی غیر موجودگی میں اس بار انتخابی میدان میں 'جنریشن زی' (Gen-Z) کا اثرورسوخ زیادہ ہے جو بھارت کی بالادستی کے خلاف سخت موقف رکھتی ہے۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کی پروفیسر لائلُفار یاسمین اور دیگر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیش مکمل طور پر بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتا، تاہم معاشی فوائد اور سلامتی کی ضروریات اسے چین کے مزید قریب لے جا رہی ہیں۔ اگر 12 فروری کے بعد ایک ایسی حکومت آتی ہے جو بھارت نواز نہیں ہے، تو بیجنگ خطے میں اپنا مستقل قدم جمانے میں کامیاب ہو جائے گا۔