دی ہیگ : سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں پر پاکستان کی جانب سے دائر عالمی مقدمے میں بھارت نے راہِ فرار اختیار کر لی ہے۔ دی ہیگ میں پرمیننٹ کورٹ آف آربٹریشن (PCA) نے بھارت کی عدم شرکت اور ڈیٹا کی عدم فراہمی کے باوجود دوسرے مرحلے کی سماعت مکمل کر لی ہے، جس سے مودی حکومت کی عالمی سطح پر سبکی ہوئی ہے۔
عالمی عدالت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، بھارت نہ صرف سماعت میں پیش ہونے سے قاصر رہا بلکہ اس نے عدالتی احکامات کے باوجود 9 فروری تک متنازع ڈیموں کا تکنیکی ڈیٹا فراہم کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔بھارت نے کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ دینے سے انکار کیا، جس پر عدالت نے بھارت کی عدم موجودگی میں بھی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
عدالت اب یہ طے کرے گی کہ بھارت مغربی دریاؤں پر بجلی گھروں کے ڈیزائن میں کس طرح تبدیلی کر کے پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے عدالت کو بتایا کہ بھارت جان بوجھ کر انڈس واٹرز معاہدے کی غلط تشریح کر رہا ہے تاکہ رن آف دی ریور منصوبوں کی آڑ میں پانی ذخیرہ کرنے کی غیر قانونی گنجائش پیدا کر سکے۔ پاکستان نے استدعا کی ہے کہ عدالت بھارت کو ڈیزائن میں تبدیلی اور ڈیٹا شیئر کرنے کا پابند بنائے۔
اس مقدمے کی سماعت پانچ رکنی عالمی بینچ نے کی جس کی قیادت امریکی ماہر پروفیسر شان ڈی مرفی کر رہے ہیں۔ بینچ میں بیلجیئم، اردن اور آسٹریلیا کے ججز بھی شامل ہیں، جو بھارت کی ہٹ دھرمی کے باوجود میرٹس پر فیصلہ سنائیں گے۔