سرینگر : مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں ضلع کپواڑہ میں تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔ نوجوانوں کوبھارتی فوج کی 19انفنٹری ڈویژن نے ضلع کے علاقے نوگام میں ایک پرتشدد کارروائی کے دوران شہید کیا۔ بھارتی فوج کے ایک آفیسر نے دعویٰ کیا ہے کہ شہید ہونے والے نوجوان عسکریت پسند تھے اور ان کو ایک جھڑپ کے دوران شہید کیاگیا۔
آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں بھارتی فوج کا آپریشن جاری تھا۔ دریں اثناء بھارتی فورسز نے سرینگر کے علاقے پانتہ چوک میں احتجاجی مظاہرین پر آنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کرکے دو خواتین سمیت متعدد افرادکو زخمی کردیا۔ بھارت کی پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے علاقے میں صبح ایک ڈرائیور کو بلاجوازتشدد کانشانہ بنایا تھا۔ احتجاجی مظاہرے کے نتیجے میں ہائی وے پر ہزاروں گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنس گئی۔ ادھر بھارتی پولیس نے ضلع اسلام آباد سے حریت کارکن حسین وگے کو گرفتار کرلیاہے۔ کولگام ، شوپیان اور ترہگام کے علاقوں میں شہری آبادی پر بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے،بڑی تعداد میں لوگوں نے پولیس کے چھاپوں اور گرفتاریوں کے خلاف کولگام کے علاقے نائیک پورہ میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس نے علاقے میں دوران شب متعدد گھروں پر چھاپے مار کر چھ نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پولیس نے چھاپوں کے دوران گھرو ں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ ماربھی کی ۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف مسلسل دوسرے روز بھی شوپیاں میں ہڑتال کی گئی ۔ فورسز نے خواتین پر پیلٹ گن سے فائرنگ کی جس سے بارہ کے قریب خواتین زخمی ہو گئی جن میں سے دو کو سرینگرکے ہسپتالوں کو منتقل کیاگیاہے۔ ادھر تریہگام کے دیہات میر پورہ اور ٹنگ واری میں چھ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔مقامی افراد کے مطابق اسپیشل آپریشنز گروپ کے اہلکاروں نے چھاپوں کے دوران آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا ۔ اطلاعات میں کہاگیا ہے کہ کٹھ پتلی وزیر بائے دیہی ترقی و پارلیمانی امور عبدالحق خان کے گاڑیوں کے قافلے پر تریہگام کے قریب Heyanمیں اس وقت حملہ کیاگیا جب لوگ بھارتی فورسز کے مظالم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں