اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت پرانی گاڑیوں کی درآمد کو سستا کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو پرانی گاڑیوں پر ٹیکسز میں کمی سے متعلق تجاویز پیش کر دی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دینے کی تجویز شامل ہے، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں پر عائد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD) کو مرحلہ وار ختم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ریگولیٹری ڈیوٹیز میں بھی نمایاں کمی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جب کہ آٹو سیکٹر پر نئی ریگولیٹری ڈیوٹیز نافذ نہ کرنے کی سفارش بھی سامنے آئی ہے۔ مزید برآں، پرانی گاڑیوں پر عائد ٹیرف میں ہر سال 10 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ صارفین کو مرحلہ وار ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت آٹو سیکٹر پر نان ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے اور سال 2030 تک گاڑیوں پر اوسط ٹیرف کو 6 فیصد سے کم کرنے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے۔