کابل :افغانستان میں بنیادی حقوق کے حصول کے لیے آواز اٹھانے والے شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ہرات میں مظاہرین پر سیکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ سے ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ہرات میں ہونے والے احتجاج کے دوران طالبان فورسز کی مبینہ اندھادھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک افغان شہری موقع پر ہی ہلاک جبکہ 22 افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
افغان میڈیا اور سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی مختلف ویڈیوز اور تصاویر نے خطے کی کشیدہ صورتحال اور شہریوں پر ہونے والے مبینہ تشدد کو عالمی سطح پر واضح کر دیا ہے۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکلنے والے نہتے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز کی جانب سے سیدھی گولیاں چلائی گئیں۔
انسانی حقوق کے مقامی اور بین الاقوامی مبصرین نے اس پرتشدد کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار پر قابض انتظامیہ کی سخت پالیسیوں نے عام افغان شہریوں کی زندگیوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے اور کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج یا اختلافی آواز کو طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے۔ ہرات واقعے کے بعد شہر میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے جبکہ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔