بھارت کے دارالحکومت دہلی اور گرد و نواح میں موجود دھند اتنی شدید ہوچکی ہے کہ اب خلا سے بھی صاف نظر آ رہی ہے۔ یہی وہ دھند ہے جس کا ایک حصہ سرحد پار کرکے پاکستان کے اہم شہر لاہور تک پہنچ چکا ہے اور گزشتہ کئی دنوں سے لاہوریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کی جاری کردہ تازہ ترین تصاویر ظاہر کرتی ہے کہ شمالی ہند و شمال مشرقی پاکستان کے علاقوں کو کس طرح دھند نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سردیوں کی آمد کے موقع پر دھند کا ہونا تو عام ہے لیکن یہ عام دھند یا کہر نہیں ہے بلکہ آلودگی اور دھوئیں کا مجموعہ ہے جس کی وجہ سے خطے کی فضا اتنی آلودہ ہوچکی ہے کہ انسانی جسم کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
ایک طرف جہاں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سنجیدہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں وہیں بھارتی دارالحکومت میں اسکولوں کو بند کرنا پڑا اور ایک ہفتے کے لیے تعمیراتی کام پر بھی پابندی لگائی گئی۔ یہ 'اسموگ' دل کے امراض، کینسر کے خطرات اور بچوں، بوڑھوں اور دمے کے مریضوں کی موت تک کا سبب بن سکتی ہے۔
دہلی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک ہے اور اس میدان میں چین کے شہروں کا مقابلہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کی آلودگی کی وجہ کوڑا کرکٹ جلانا، اوپلوں کا بطور ایندھن استعمال، ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر ہیں۔ جو کسر رہ گئی ہے وہ دھان کی فصل کی باقیات جلانے سے پوری ہو جاتی ہے جو دہلی کے قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے۔