Get Alerts

بہار   کا الیکشن، مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات 

بہار   کا الیکشن، مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات 

تحریر: طارق وسیم

 بھارت کی ریاست بہار میں جاری اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور کئی ووٹرز نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت پر مبینہ دھاندلی، ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیوں اور پولنگ کے دوران انتظامی بدانتظامیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔بہار کے مختلف اضلاع، جن میں گیا، مونگیر، اور بھاگلپور شامل ہیں، سے ایسی متعدد شکایات سامنے آئی ہیں کہ کچھ ووٹرز جب پولنگ سٹیشن پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے نام پر پہلے ہی ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ کئی پولنگ مراکز پر ووٹر رجسٹریشن کے ریکارڈ میں تضادات اور تکنیکی خرابیوں کی اطلاعات بھی ملیں، جنہوں نے انتخابی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پاکستان اور بھارت میں  سیاست کے بھی عجب رنگ ہیں ،یہاں مخالفین پر الزام تراشی کر کے ووٹ حاصل کرنے کی روایت ہے ۔پاکستان میں یہ روش دم توڑ چکی ہے ۔نریندر مودی کی پہچان ہی گجرات میں  مسلمانوں کا قتل عام ہے۔ تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو  اہم بات یہ ہےکہ  وہ اپنے ووٹرز کو یہ باور کرانے   میں  بھی کامیاب رہے  ہیں کہ سلاطین دہلی بہت ظالم تھے ،انہوں نے ہندو قوم پر مظالم کے پہاڑ توڑے ،ہماری سرزمین یا دھرتی پر ناجائز قبضہ کیا اور ،اب ہمیں اس سب کا بدلہ لینا ہے ،وہ بدلہ گھر واپسی تحریک کی صورت ہو سکتا ۔مساجد کومندروں میں  بدل کر لیا جا سکتا  ہے ،اور  یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن جیتے۔مودی      کے اقتدار کا دورانیہ 22 سال سے زیادہ ہو چکا ہے  ، وہ بھارت کی  معاشی ترقی کے بھی دعویدار ہیں جبکہ درحقیقت  بھارتی کی معیشت کو درست سمت  من موہن سنگھ نے فراہم کی تھی۔
  جس کا پھل موجودہ بھارتی حکمران ان کے حمایتی پچاس کے قریب کاروباری گھرانے کھا رہے ہیں ،یہی  لوگ بھارت کی 90 فیصد دولت پر قابض ہیں،باقی ماندہ  انڈیا  میں آج بھی لوگ  50 روپے روزانہ سےکم  آمدنی میں  زندگی گزارتے ہیں ،دنیا میں سڑکوں  پر سونے والے  سب سے زیادہ   لوگ بھی بھارت ہی میں ہیں  ،ایڈز،ہیپاٹائٹس اور دیگرامراض کی شرح بھارت میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے ، مودی کے دور میں بھارت بالخصوص مقبوضہ  جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جو پامالی ہوئی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ 
انہیں حالات میں بھارت کی پسماندہ ترین ریاست بہار  میں ووٹنگ ہوئی ہے  دیگرحلقوں  میں بھی ووٹنگ ہوگی۔ بہار  وہ ریاست ہے جہاں بی جے پی کبھی سادہ اکثریت  حاصل نہیں  کر سکی ،گزشتہ دو انتخابات میں اس صوبے  میں  مخلوط حکومت بنی ہے  ،کہا جارہا ہےبہار کے الیکشن رزلٹ مودی کی جماعت اور ان کے اقتدار  کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتے  ہیں  ۔یہاں یہ  بات اہم ہے کہ بہار ہی وہ ریاست ہے جس نے اشوک  کے بڑھتے قدم روک کر اس کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا ،اور اس میں وہاں کی عورتوں نے اہم کردار ادا کیا  تھا۔

نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے.

  • طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں  اپنی منفرد پہچان بنائی ہے
ٹیگز: