نئی دہلی/ کابل:بھارت نے چار سال بعد افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دوبارہ اپنا سفارت خانہ کھولنے اور افغانستان کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے ہمراہ جمعہ کی صبح ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔
جے شنکر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کا مکمل احترام کرتا ہے اور اس کے ساتھ دیرپا تعلقات قائم رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابل میں پہلے سے موجود بھارتی "ٹیکنیکل مشن" کو اب باقاعدہ سفارت خانے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ جے شنکر نے کہا کہ بھارت افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں کی معاونت جاری رکھے گا اور چھ نئے منصوبوں کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔ اس کے علاوہ، بھارت کی جانب سے 20 ایمبولینسز عطیہ کرنے اور جدید طبی آلات، ویکسین، اور کینسر کی ادویات فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا۔
یہ پیش رفت 2021 میں امریکہ کے انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد پیدا ہونے والے سفارتی خلاء کو پُر کرنے کی کوشش ہے۔ بھارت نے اس وقت سلامتی کے خدشات کے پیش نظر اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔
تقریباً دس ماہ تک دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط معطل رہے، بعد ازاں طالبان کی طرف سے سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد بھارت نے کابل میں ایک تکنیکی ٹیم تعینات کی تھی۔اکتوبر 2025 میں بھارت اور طالبان حکومت کے درمیان سفارتی سطح پر نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے یقین دلایا کہ افغان سرزمین بھارت کے خلاف کسی بھی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
اگرچہ بھارت نے طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کر دیے ہیں، لیکن تاحال اس حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کیا ہے، جبکہ دیگر ممالک محتاط پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔
بھارت کا کابل میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں ایک نیا موڑ ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور انسانی بنیادوں پر تعاون کو فروغ ملنے کی امید ہے۔