اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے سلسلے میں ایران کا ایک انتہائی طاقتور اور اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستان کے دارالحکومت پہنچ گیا ہے۔
نور خان ایئر بیس پر ایرانی وفد کا غیر معمولی استقبال کیا گیا، جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کا خیرمقدم کیا۔ سفارتی ماہرین اس دورے کو خطے کی صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں کیونکہ وفد میں ایران کی سیاسی، دفاعی اور معاشی قیادت کے اہم مہرے شامل ہیں، جن میں وزیر خارجہ عباس عراقچی, سپریم نیشنل ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ وفد اسلام آباد میں موجود امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ جنگ بندی کے امکانات پر بات چیت کرے گا۔ تاہم، مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر واضح کیا ہے کہ ایران اپنے موقف پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے لیے دو بنیادی شرائط پر اتفاق ہوا تھا جن پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا: ایران کے منجمد اثاثوں کی فوری بحالی،لبنان میں فوری طور پر جنگ بندی کا نفاذشامل ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ 'Flightradar24' نے بھی ایران سے دو سرکاری طیاروں کی اسلام آباد آمد کی تصدیق کی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر ان مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے سے جاری فوجی تصادم کے خاتمے کی جانب پہلا بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔