اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اس وقت عالمی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا کا بھی گڑھ بن چکا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی مذاکرات کی کوریج کے لیے دنیا بھر سے نامور صحافیوں، تجزیہ کاروں اور میڈیا ہاؤسز کے نمائندوں کی بڑی تعداد اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے اس حساس اور اہم ترین موقع کی شفاف اور تیز تر رپورٹنگ یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایک جدید "میڈیا حب" قائم کر دیا ہے۔میڈیا حب کو تمام جدید مواصلاتی سہولیات سے لیس کیا گیا ہے تاکہ عالمی برادری تک مذاکرات کی پل پل کی خبر پہنچائی جا سکے۔
صحافیوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے اسلام آباد کے ایک نجی شاپنگ مال سے میڈیا حب اور دیگر متعلقہ مقامات تک "فری شٹل سروس" کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جس کی بدولت غیر ملکی صحافی بغیر کسی دشواری کے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔سی این این، بی بی سی، الجزیرہ اور رائٹرز سمیت دنیا کے تمام بڑے نیوز چینلز کے نمائندے اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں۔ ہماری نمائندہ عائشہ شعیب کے مطابق، میڈیا حب میں موجود صحافیوں کا جوش و خروش دیدنی ہے اور وہ اسے "صدی کا سب سے بڑا سفارتی معرکہ" قرار دے رہے ہیں۔
میڈیا حب میں موجود ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر انتظامات اور میڈیا کو فراہم کردہ سہولیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اس امن مشن کی کامیابی کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی تائید کے بعد اب بین الاقوامی میڈیا کی تمام تر نظریں ان مذاکرات سے نکلنے والے مشترکہ اعلامیے پر لگی ہوئی ہیں۔
اسلام آباد آج صرف مذاکرات کی میز ہی نہیں، بلکہ عالمی اطلاعات کا وہ چشمہ بن چکا ہے جہاں سے نکلنے والی ہر خبر دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس اور سفارتی ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر رہی ہے۔ حکومتِ پاکستان کے ان اقدامات کو عالمی صحافتی برادری کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے۔