ممبئی :بھارت کے فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ نے تین ماہ قبل 4 روزہ جنگ میں پاکستان کے 5 لڑاکا طیارے اور کل 6 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اب اس دعوے کی سچائی پر بھارت کے ہی ایک معروف دفاعی تجزیہ کار نے سوال اٹھا دیے ہیں۔
پراوین ساہنی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر واقعی پاکستانی ایف-16 طیارہ مار گرایا گیا ہوتا تو اس کا ثبوت تین ماہ بعد تک کیوں نہیں دکھایا گیا؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستانی طیاروں کو فضا یا ہینگرز پر نشانہ بنایا ہوتا تو دنیا بھر کو اس کی مکمل معلومات اور ثبوت مل چکے ہوتے۔
انہوں نے انڈین ائیرچیف کے دعوے پر سوال کیا کہ تباہ شدہ طیارے کہاں ہیں؟ ان کے ملبے کی تصاویر، ویڈیوز یا سیٹلائٹ امیجز کیوں نہیں دکھائی گئیں؟ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے صرف تقریری دعوے کیے گئے، لیکن کسی بھی سرکاری پریس کانفرنس میں اس کی تصدیق یا ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
پراوین ساہنی نے واضح کیا کہ اس قسم کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں لگتے اور بھارتی ایئر چیف کے بیان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ دعویٰ بھارت میں بھی تنقید کی زد میں ہے اور اسے مودی حکومت کے لیے بین الاقوامی سطح پر بدنامی کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔