نااہلیت اور بے حسی اور کیا ہے

نااہلیت اور بے حسی اور کیا ہے

قانون قدرت مسلک دیکھتا ہے نہ مذہب۔ بذات خود ایک نظام ہے جس کو مالک و خالق نے ہر حال میں قیامت تک طے شدہ طریقے کے مطابق چلانا ہے، اس کے چلنے کے راستے میں جو بھی آئے گا کٹ جائے گا۔ فرد سے لے کر اقوام تک ایک نظام ہے جس کے تحت یہ نظام ہستی چل رہا ہے۔ صد حیف کہ ہم روزانہ اس کو کروٹ لینے کے لیے، متوجہ کرنے کے لئے نہیں، کیے گئے کا بدلہ دینے کے لئے پکار نہیں للکار رہے ہیں۔
حضرت علیؓ سے پوچھا گیا کہ کوئی ایک صفت بتا دیجئے جو انسان میں ہو تو اسے ایک مثبت انسان سمجھا جائے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا، ذمہ دار (مفہوم)۔
گویا انسان اگر ذمہ دار ہے تو وہ سب کچھ ہے۔ دوسرے موقع پر حضرت علیؓ نے کسی کو ذمہ داری سونپنا تھی تو پوچھا کہ وہ کیسا ہے۔ موجود لوگوں نے بتایا کہ صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے، متقی، پرہیزگار ہے۔ حضرت علیؓ فرمانے لگے، آپ بتائیں وہ معاملات میں کیسا ہے۔ گویا جو معاملات میں بہتر نہیں جو ذمہ دار نہیں، وہ حضرت علیؓ کے بقول نااہل ہے۔
دراصل مری کے حالیہ سانحے نے ایسا دکھی کیا ہے کہ کوئی الفاظ نہیں اپنے احساسات اور جو دل و دماغ پر گزری اور گزر رہی ہے، اس کو بیان کیا جا سکے۔ حضرت علیؓ کے مطابق موجودہ حکمران اہل نہ معاملات کے اچھے ہیں۔ حکمران اور عوام کا ایک ناتا اور رشتہ ہوتا ہے فرد اور ریاست کا ایک معاہدہ ہوتا ہے، جب وہ معاہدہ وہ ناتا ٹوٹتا ہے تو نقشہ بحال رہنا کوئی خاص معنی نہیں رکھتا۔ مجھے حیرت کابینہ کے وزیر اعظم اور کابینہ کے بیانات پر کہ لاکھوں گاڑیاں مری میں داخل ہو گئیں، گویا معیشت بہتر ہے۔ کوئی ایک لاکھ اور کوئی پانچ لاکھ بتا رہا ہے۔ اگر ایسے ٹویٹ اور بیانات تھے تو اس ہجوم اور ان کاروں کو ان میں سوار انسانوں کی آسانی اور زندگی کی حفاظت کے لیے بھی بندوبست کرنا تھے کہ نہیں۔ اگر برفانی طوفان ہی اموات کا سبب بنا ہے تو پھر مقامی آبادی بھی متاثر ہوتی لیکن پردیسی مسافر اور اجنبی ہی کیوں موت کی آغوش میں چلے گئے؟ دنیا میں بد انتظامی کی ایسی کوئی دوسری مثال نہیں ہو گی۔ مجھے یاد ہے علیمہ خان چترال وغیرہ میں پھنس گئی تھی تو تمام ریاستی ادارے حرکت میں آ گئے تھے۔ ملٹری ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کر کے بچا لی گئی تھی مگر مری میں پھنسے بے بس لوگوں میں سے کوئی وزیر اعظم کی بہن نہیں تھی آرمی کے بارہ ڈویژن، انتظامیہ اور وہاں کے سرکاری و نیم سرکاری ادارے کیا کر رہے تھے جب چوبیس گھنٹے سے زیادہ ٹریفک جام ہو گئی۔ ایڈن ایونیو سے بھٹہ چوک تک، ایئرپورٹ روڈ پر تو ٹریفک کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ مری میں حکمرانوں کے بقول لاکھوں، عوام کے بقول ہزاروں گاڑیوں کی جام ٹریفک کس نے کنٹرول کرنا تھی، مر گئے بے آسرا لوگ!۔ مجھے تو ان بچوں کا خیال آتا ہے جن کی طاقت والدین تھے، ان والدین پر ترس آتا ہے جو بے بس تھے، نہ جانے پہلے والدین نے دم توڑا کہ بچوں نے۔ اس کی حالت کیا ہو گی جس نے بعد میں دم توڑا ہو گا۔ ایک اپنے والد یا بچے کی موت کا دکھ اور اس دکھ کے بوجھ کے ساتھ اس کا اپنا دم توڑنا، رب العزت کی قسم میرے پاس بالکل الفاظ نہیں کہ میں اس سانحہ کو بیان کر سکوں۔ مگر حکمرانوں کی بے حسی، ڈھٹائی، بے شرمی اور نااہلیت حدیں عبور کر گئی۔ اس میں بھی معیشت کے اوپر نیچے جانے کے جواز پیش کر رہے ہیں بلکہ مرنے والوں کو ہی موت کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ یہ سانحہ سابقہ حکمرانوں پر نہیں ڈال دیا گیا۔
شہباز شریف میں ان کے مطابق بے تحاشا عیوب ہوں گے۔ چلیں چیئرمین نیب کی تقرری، آڈٹ کمیٹی کے چیئرمین اور دیگر آئینی مجبوریوں پر اگر اپوزیشن سے رابطہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے تو کم از کم حکومت چلانے، انتظامیہ کو کنٹرول کرنے کے طریقے ہی شہباز شریف سے پوچھ لیں۔ آپ کے گرد تو درجنوں لوگ ہیں، وزیراعلیٰ بزدار سمیت جنہوں نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کام کیا ہوا ہے۔ کرپشن تو اپنا لی گئی کوئی مثبت کام کی بھی تقلید کر لیں۔
موٹروے ٹریجڈی کا واقعہ شہباز شریف کے وقت میں ہوتا تو آج تک فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ مجھے کسی اور کی بات کیا کرنا، میں گوجرانوالہ گیا ہوا تھا میرے گھر ڈکیتی ہوئی، ملازمین کو یرغمال بنا لیا گیا۔ یہ 1999 کی بات ہو گی۔ اگلے دن میں اور اللہ کریم زندگی دے گلزار بھائی جان (سپرنٹنڈنٹ جیل جناب گلزار احمد بٹ صاحب) اس وقت کے وزیراعلیٰ سے رابطہ کیا ان کے آفس صبح ساڑھے سات بجے پہنچ گئے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اپنے دفتر میں تھے۔ ان کا سیکرٹری ہمارے پاس آیا کہ آپ نے وزیراعلیٰ صاحب سے وقت لیا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے اپنے کام بتائیں تاکہ ہم وزیراعلیٰ کو بریف کر دیں۔ گلزار بھائی نے کہا کہ ڈکیتی ہوئی ہے، اس کی داد رسی کے لیے آئے ہیں۔ سیکرٹری کہنے لگا کہ صرف چند منٹ انتظار کر لیں، ایک فائل اندر گئی ہے باہر آ جائے وہ دیکھ لیں۔ ہم نے کہا، ہماری فائل ہے؟ اس نے کہا، نہیں تمام جرائم کی خبریں اور اہم خبروں کا رجسٹر صاحب کے پاس گیا ہوا ہے۔ بات کرتے کرتے وہ رجسٹر باہر آ گیا، اس میں اخبارات کی کٹنگز لگی ہوئی تھیں، ایک میری ڈکیتی کی خبر تھی۔ جس کو وزیر اعلیٰ نے سرخ رنگ سے سرکل کیا ہوا تھا۔ ہرے رنگ کے مارکر کے ساتھ دو ایس پی صاحبان کی ڈیوٹی لگائی ہوئی تھی، اس ہدایت کے ساتھ، 15 دن میں رپورٹ کی جائے۔ ہم نے سیکرٹری سے کہا کہ یہ ہماری خبر ہے۔ اس نے کہا کہ احکامات تو صاحب نے جو کرنے تھے کر دیئے، اگر ویسے ملاقات کرنی ہے، بات کرنی ہے تو آپ مل لیں۔ ہم نے کہا، بس یہی کافی ہے احکامات ہو گئے۔ 15 دن کی ہدایت کی تھی، اللہ کی کرم نوازی سے تیرھویں دن ملزمان کی پولیس سے مڈبھیڑ ہو گئی اور وہ کیفر کردار کو پہنچ گئے، چند دنوں بعد ریکوری بھی ہو گئی۔ بزدار لاہور میں شہباز شریف تو لگ گیا ہے مگر شہباز شریف جیسی کوئی اچھی خوبی بھی پیدا کر لے۔
اگر وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم کو علم ہے کہ مری چھوٹی سی جگہ میں لاکھوں گاڑیاں اور موسم بھی ستم ظریف ہے تو کم ازکم انتظامات، ٹریفک کے انتظامات ہی بہتر کرتے کہ ٹریفک کا بہاؤ درست رہتا۔ پھر اگر مقامی انتظامیہ ذاتی عیاشیوں اور پروٹوکول میں مصروف تھی تو ٹریفک رک جانے، برفباری شدت اختیار کر جانے پر ہی کچھ کرتے مگر اپوزیشن فوبیا ٹویٹ کرنے اور الزامات لگانے، دشنام طرازی اور ڈیلیں کرنے، ڈیلیں توڑنے سے فرصت ملے تو کچھ مثبت کام ہو۔ اگر مری بھی سنبھالا نہیں گیا تو نااہلیت اور بے حسی اور کیا ہے۔