Get Alerts

صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف کی بلوچستان میں دہشت گردی کے حملے کی شدید مذمت

صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف کی بلوچستان میں دہشت گردی کے حملے کی شدید مذمت

اسلام آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے سرہ ڈاکئی میں پنجابی مسافروں کے سفاکانہ قتل کی سخت مذمت کی ہے اور اس بزدلانہ کارروائی کو فتنہ الہندوستان کی پاکستان میں خونریزی کی گھناؤنی سازش قرار دیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گردوں نے بس سے اتار کر معصوم شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا، جو کہ ایک بربریت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ فتنہ الہندوستان کے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان میں انتشار اور بد امنی پھیلانا ہے۔

صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کو فتنہ الہندوستان اور اس کے سہولت کاروں سے ہر صورت پاک کرے گا، اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک حکومت کی جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے اس واقعے کے متاثرین کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں"۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے سرہ ڈاکئی میں دہشت گردوں کے حملے میں بے گناہ افراد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ کارروائی کے ذریعے فتنہ الہندوستان نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کی جائے گی اور ان کا قلع قمع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "عزم اور اتحاد سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کر کے دم لیں گے۔" وزیراعظم نے اس افسوسناک واقعے کے متاثرین کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور اسے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی سفاکانہ کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "یہ سفاکیت کی انتہا ہے" اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر دشمن نے اپنی درندگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ محسن نقوی نے اس دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے علاقے ژوب میں دہشت گردوں نے پنجاب آنے والی بسوں سے مسافروں کو اتار کر اغوا کیا اور پھر گولیوں سے قتل کر دیا۔ حملہ سرہ ڈاکئی کے مقام پر لورالائی اور موسیٰ خیل کے درمیان شاہراہ پر ہوا، اور دہشت گرد اس حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ٹیگز: