Get Alerts

امریکہ میں سکھ گوردوارے نے "ہندو امریکن فاؤنڈیشن" کو مودی سرکار کا غیر ملکی ایجنٹ قراردیدیا ، معروف برطانوی جریدے کی رپورٹ

امریکہ میں سکھ گوردوارے نے

نیویارک: بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر عالمی سطح پر ریاستی دہشت گردی کے الزامات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے مطابق امریکا کے شہر فریمانٹ کے ایک بڑے سکھ گوردوارے نے ’ہندو امریکن فاؤنڈیشن‘ (HAF) کو مودی حکومت کا غیر ملکی ایجنٹ قرار دے دیا ہے اور اس کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

فریمانٹ گوردوارے نے امریکی محکمہ انصاف کو باقاعدہ درخواست دی ہے کہ ہندو امریکن فاؤنڈیشن کو ’فارین ایجنٹ‘ کے طور پر رجسٹر کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ HAF امریکا میں مودی سرکار اور بی جے پی کے ایجنڈے کو فروغ دینے میں سرگرم ہے۔ گوردوارے نے الزام لگایا کہ یہ تنظیم بھارتی حکام کو اپنے پلیٹ فارم فراہم کر کے سیاسی پروپیگنڈے میں مدد دے رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی حکومت 2014 سے عالمی سطح پر ریاستی دہشت گردی کے نیٹ ورک میں ملوث رہی ہے، اور اب یہ نیٹ ورک عالمی میڈیا اور اداروں کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں خالصتان تحریک کے حامی سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد بھارت پر کینیڈا اور امریکا میں سکھوں کو نشانہ بنانے کے الزامات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی بھارتی سازش بھی امریکی حکام کی جانب سے منظرِ عام پر لائی گئی۔

دوسری جانب ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے الٹا فریمانٹ گوردوارے پر ہی الزام لگایا ہے کہ یہ مہم خالصتان تحریک کے حمایتیوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے۔ تاہم مختلف رپورٹس، جن میں الجزیرہ کی تازہ رپورٹ بھی شامل ہے، اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ HAF نے مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیاں نمایاں طور پر بڑھا دی ہیں۔

امریکا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک میں اب بھارت کے بیرون ملک سرگرم خفیہ نیٹ ورکس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، اور سکھ کمیونٹی کی جانب سے عالمی سطح پر انصاف کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ٹیگز: