تہران / واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید ترین عسکری تصادم اب سمندری محاذ تک پھیل گیا ہے۔ امریکی فضائی حملوں اور صدر ٹرمپ کے الٹی میٹم کے جواب میں ایران نے عالمی معیشت پر بڑا وار کرتے ہوئے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کو ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس اہم ترین سمندری راستے پر کنٹرول کے لیے امریکی افواج اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان براہِ راست خونریز جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔
دنیا بھر کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ایران کی جانب سے تمام تیل بردار اور تجارتی کارگو جہازوں کو زبردستی روکے جانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کے شدید بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکا ان کی سرزمین پر بمباری بند نہیں کرتا، کسی بھی ملک کے تجارتی جہاز کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی اسٹیٹ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کو بند ہونے سے بچانے کے لیے پیش قدمی کی، جس کے بعد دونوں ممالک کی افواج سمندر میں ایک دوسرے سے ٹکرا گئیں۔
سمندری حدود میں امریکی بحری بیڑے اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی تیز رفتار جنگی کشتیاں اور کمانڈوز ایک دوسرے کے خلاف برسرِپیکار ہیں اور دونوں جانب سے شدید فائرنگ اور میزائلوں کا تبادلہ جاری ہے۔