واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب ایک بیان میں ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اور ممکنہ عسکری اقدامات کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا ایران کے خلاف سخت کارروائی کر سکتا ہے۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے مختلف عسکری و دفاعی نظام، جن میں نیوی، فضائیہ اور ریڈار سسٹمز شامل ہیں، کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔
اسی بیان میں مزید کہا گیا کہ مستقبل قریب میں امریکا ایران کے اہم توانائی مراکز، خصوصاً خارگ جزیرے سمیت دیگر تیل و گیس کے مراکز پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور توانائی کے شعبے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ سے منسوب بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کو جلد “بہت سخت حملوں” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری یا آزاد تصدیق شدہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
بیان میں وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ امریکا نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کی حکمت عملی اختیار کی تھی، جس کے نتائج دونوں ممالک کے لیے مختلف نوعیت کے رہے۔
یہ تمام بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے، تاہم ان دعوؤں کی کسی آزاد یا سرکاری ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔