واشنگٹن ڈی سی: امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں اس وقت سیاسی ہلچل اور عوامی بحث چھڑ گئی جب امریکی کانگریس کی عمارت (کپٹل ہل) کے قریب ایک انتہائی متنازع اور طنزیہ مجسمہ نصب پایا گیا۔ اس مجسمے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کو ہالی ووڈ کی مشہور فلم 'ٹائٹینک' کے ایک یادگار منظر کی طرز پر دکھایا گیا ہے۔
گمنام فنکاروں کے ایک گروپ، جو خود کو 'دی سیکرٹ ہینڈ شیک' کہتا ہے، نے اس فن پارے کو 'کنگ آف دی ورلڈ' کا عنوان دیا ہے۔ مجسمے میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جہاز کے اگلے حصے پر کھڑے ہو کر جیفری ایپسٹین کو پیچھے سے تھامے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو فلم ٹائٹینک کے 'جیک اور روز' والے مشہور سین کی عکاسی کرتا ہے۔
مجسمے کے ساتھ ایک تختی بھی نصب کی گئی ہے جس پر درج تحریر کے مطابق یہ یادگار ٹرمپ اور ایپسٹین کے درمیان ماضی کے تعلقات پر ایک گہرا طنز ہے۔مجسمے کے ارد گرد بڑے بڑے بینرز بھی لگائے گئے ہیں جن پر دونوں شخصیات کی تصاویر موجود ہیں۔ فنکار گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد طاقتور افراد کے خفیہ روابط کو عوامی سطح پر لانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ احتجاجی فن پارہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں ایپسٹین کیس سے متعلق ایف بی آئی (FBI) کی کچھ خفیہ دستاویزات جاری کی ہیں۔ ان دستاویزات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بھی کچھ الزامات اور اشارے ملتے ہیں، جس کے بعد اس گمنام گروپ نے ایک بار پھر سرگرمی دکھائی ہے۔
واضح رہے کہ 'دی سیکرٹ ہینڈ شیک' نامی یہ گروپ پہلے بھی واشنگٹن میں ٹرمپ اور ایپسٹین کے حوالے سے تنقیدی اور طنزیہ فن پارے نصب کر چکا ہے۔ حکام کی جانب سے ابھی تک اس مجسمے کو ہٹانے یا فنکاروں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔