Get Alerts

علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئینی مسائل کے باعث ملتوی

علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئینی مسائل کے باعث ملتوی

پشاور : علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا آپشن آئینی ماہرین اور صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ کی سفارشات کی روشنی میں نا قابل عمل قرار دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی کارروائی فی الحال مؤخر کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ میں آئینی ماہرین کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مستعفی وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے امکانات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ چونکہ وزیراعلیٰ نے خود مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے، لہٰذا ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا آئینی طور پر ممکن نہیں ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو اس پر عدالت میں بھی چیلنج دائر ہونے کے قوی امکانات ہیں، جس سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے پی ٹی آئی نے آئینی ماہرین کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ  علی امین گنڈا پور نے چند روز قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ان کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے علی امین گنڈا پور کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لیے صوبائی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی کی قیادت نے اس اجلاس میں علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ تاہم اب آئینی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ کارروائی مؤخر ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو نئے وزیراعلیٰ کے طور پر نامزد کر دیا ہے، جو آئندہ اسمبلی اجلاس میں حکومت کی قیادت کریں گے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا ہے کہ انہیں ابھی تک علی امین گنڈا پور کا مستعفی ہونے کا تحریری اعلامیہ موصول نہیں ہوا، جس کے باعث وہ استعفیٰ منظور کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ سیاسی کشیدگی خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے اور آئندہ چند روز میں صورتحال کا واضح رخ سامنے آنے کا امکان ہے۔

ٹیگز: