Get Alerts

اسلام آباد مذاکرات اور عالمی سفارت کاری: منقسم دنیا میں پاکستان کا ابھرتا ہوا ثالثی کردار

اسلام آباد مذاکرات اور عالمی سفارت کاری: منقسم دنیا میں پاکستان کا ابھرتا ہوا ثالثی کردار

تحریر: حافظ احسن احمد کھوکھر (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ و ماہر بین الاقوامی قانون)


آج کے بکھرے ہوئے اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی نظام میں، 2025 سے پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی ایک بلند اور پختہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی برادری اب پاکستان کو ایک مستحکم، تعمیری اور ذمہ دار سفارتی کھلاڑی کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔ واشنگٹن سے تہران اور بیجنگ سے ماسکو تک، پاکستان کو ایک معتبر اور قابلِ بھروسہ مذاکرات کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو مختلف عالمی بلاکس کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسی تناظر میں، حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان کی سہولت کاری سے ہونے والے ان 21 گھنٹہ طویل  مذاکرات نے اگرچہ ابھی حتمی معاہدے کی شکل اختیار نہیں کی، لیکن انہوں نے سفارتی خلا کو پُر کرنے اور ایک نازک جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ مذاکرات اس اصول کی توثیق کرتے ہیں کہ قدیم ترین تنازعات کا حل بھی صرف مکالمے میں ہی پنہاں ہے۔
8 فروری سے اسلام آباد نے دونوں فریقین کے درمیان رابطوں کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے، جو کہ 1979 کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلا باضابطہ اور ڈھانچہ جاتی رابطہ ہے۔ پاکستان کی شہری اور عسکری قیادت کی مربوط کوششوں نے اس عمل میں تزویراتی پختگی اور غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں نے پاکستان کے اس کردار کو سراہا ہے، جو اس بات کی تصدیق ہے کہ پاکستان کی ثالثی محض علامتی نہیں بلکہ ٹھوس نتائج کی حامل ہے۔
جہاں ایک طرف امریکہ ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم کی افزودگی کی حد اور آبنائے ہرمز جیسے تزویراتی آبی راستوں کی سکیورٹی پر تحفظات رکھتا ہے، وہیں ایران کا موقف بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور پرامن جوہری توانائی کے حق پر مبنی ہے۔ تہران ایک ایسے مرحلہ وار فریم ورک کا خواہاں ہے جس میں پابندیوں کا خاتمہ اور اقتصادی نارملائزیشن ساتھ ساتھ چلیں۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح پیچیدہ مسائل کو باہمی لین دین اور ڈھانچہ جاتی سفارت کاری سے حل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ پائیدار امن جبر، دباؤ یا فوجی طاقت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت کا استعمال صرف عدم اعتماد کو گہرا کرتا ہے اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرتا ہے۔ پاکستان نے 8 فروری سے جس عمل کا آغاز کیا ہے، وہ عالمی تعلقات کے ایک نازک موڑ پر تسلسل فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کی کامیابی محض ثالثی تک محدود نہیں، بلکہ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں (بیجنگ، ماسکو، ریاض، لندن، پیرس اور برسلز) کے ساتھ متوازن تعلقات اس کی سفارتی گہرائی کا ثبوت ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات نے تین تاریخی نتائج حاصل کیے ہیں، مکالمے کی بحالی، جنگ بندی کا استحکام اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کی اہمیت کی توثیق۔ پاکستان اب عالمی امور میں محض ایک شریک نہیں، بلکہ عالمی استحکام اور سفارتی ہم آہنگی کا ایک ابھرتا ہوا معمار بن چکا ہے۔


نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا  کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نوٹ:حافظ احسان احمد کھوکھر پاکستان کے ایک سینئر اور معروف ماہرِ آئین و بین الاقوامی امور (Constitutional and International Law) ہیں جو سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور ایڈووکیٹ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ مختلف اہم قانونی کیسز، جن میں ایف بی آر (FBR) اور حساس سیاسی کیسز شامل ہیں، میں پیروی کے لیے مشہور ہیں۔ 

ٹیگز: