نیویارک :بھارت اور اس کے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات گزشتہ ایک سال سے مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں، جو اب سفارتی، تجارتی اور حتیٰ کہ کھیلوں کے میدان تک پھیل چکے ہیں۔
نیویارک ٹائمز میں شائع مجیب مشعل اور سیف حسنات کے آرٹیکل میں اس بارے میں بتایاگیا ہے۔ اس میں بتایاگیا ہے کہ حالیہ دنوں میں یہ کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف عملی طور پر کھیلوں کے بائیکاٹ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
یہ تنازع ابتدا میں سیاسی الزامات سے شروع ہوا، لیکن جلد ہی سفارتی ردعمل اور تجارتی اقدامات کی صورت اختیار کر گیا۔ صورتحال اس وقت مزید خراب ہوئی جب 2024 میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ایک عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ شیخ حسینہ، جنہیں نئی دہلی کی مضبوط حمایت حاصل تھی، ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور مظاہرین نے بھارت پر شدید تنقید کی کہ وہ شیخ حسینہ کو وطن واپس بھیجنے سے انکار کر رہا ہے تاکہ وہ اپنے ملک میں انصاف کا سامنا کریں۔
دوسری طرف بھارت نے ڈھاکہ میں سیاسی جماعتوں کے سخت بیانات اور بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت کے خلاف تشدد کے واقعات پر احتجاج کیا۔ گزشتہ ماہ بھارت نے چٹاگانگ میں اپنے سفارتی مشن پر حملوں کے بعد وہاں ویزا خدمات معطل کر دیں، جس کے جواب میں بنگلہ دیش نے نئی دہلی میں اپنے مشن پر احتجاج کے بعد بھارتی شہریوں کے لیے ویزا خدمات روک دیں۔
کشیدگی کھیلوں تک بھی جا پہنچی ہے، جب بھارت میں دائیں بازو کے ہندو گروہوں کے احتجاج کے بعد ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کو انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت سے روک دیا گیاہے۔ اس کے ردعمل میں بنگلہ دیش نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ماہ بھارت میں ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم نہیں بھیجے گا اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے مطالبہ کیا کہ اس کے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر منتقل کیے جائیں۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک میں آئندہ انتخابات اس کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، کیونکہ سیاسی جماعتیں اسے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ بھارت کے لیے یہ تنازع جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں ایک بڑا سفارتی چیلنج بن چکا ہے۔
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا، کمزور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بڑھتی ہوئی انتہاپسندی نے ملک میں شناخت کے بحران کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ بھارت نے 1971 کی جنگِ آزادی میں بنگلہ دیش کا ساتھ دے کر دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد رکھی تھی، لیکن شیخ حسینہ کے طویل اور سخت گیر دورِ حکومت کے دوران بھارت کی غیر مشروط حمایت نے بنگلہ دیش کے نوجوانوں میں بھارت مخالف جذبات کو ہوا دی ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ عوامی سطح پر سخت بیانات دیے جا رہے ہیں، لیکن پردے کے پیچھے دونوں ممالک اس کشیدگی کو محدود رکھنے اور مستقبل میں تعلقات کو سنبھالنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ آنے والے انتخابات کے بعد یہ تعلقات کس سمت جائیں گے، اس کا انحصار بنگلہ دیش کی نئی قیادت اور بھارت کی علاقائی حکمتِ عملی پر ہوگا۔