اسلام آباد :قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا، جس میں مجموعی بجٹ خسارہ 5 ہزار 226 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1 ہزار 71 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے لیے 17 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 838 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تعلیم کے شعبے کے لیے 77 ارب روپے جبکہ صحت کے لیے 22 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کم سے کم تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم بینکوں، تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزر سیکٹر پر سرچارج برقرار رہے گا۔
بجٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 10.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
مزید برآں امپورٹڈ گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 2 ہزار سے 3 ہزار سی سی گاڑیوں اور ایس یو ویز پر بھی ڈیوٹی کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 2 کروڑ روپے سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور بسوں پر رعایتی ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اجلاس کے آغاز پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایوان میں پہنچے جبکہ اپوزیشن بنچز پر علی محمد خان بھی موجود تھے۔ اسی طرح راجہ پرویز اشرف، نوید قمر اور خورشید شاہ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان پلے کارڈز اٹھا کر ایوان میں داخل ہوئے اور احتجاج شروع کر دیا، جس کے باعث ایوان میں شورشرابا دیکھنے میں آیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں تعاون پر وہ وزیراعظم اور بلاول بھٹو زرداری کے مشکور ہیں۔
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ نے آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری میں تعاون پر وہ وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مشکور ہیں۔
وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارتی جارحیت کا پاکستانی فورسز نے بھرپور جواب دیا، اور “بنیان مرصوص” کی کامیابی ہماری تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے اس کامیابی پر فخر کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مضبوط دفاع ملک کی معاشی قوت کو بھی مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے انکم ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں پر انکم ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد، جبکہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر بھی ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
حکومت نے چھ سلیبز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس سے قبل 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن پر 1 سے 7 فیصد سپر ٹیکس عائد تھا۔
بجٹ میں فائلرز کی جائیداد کی فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس بھی 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور سیمنٹ، لوہا، شیشہ، ٹمبر، پینٹس، ٹائلز اور ہارڈویئر سمیت تقریباً 40 صنعتوں کو فروغ ملے گا۔
مزید برآں آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد رعایت میں 30 جون 2029 تک توسیع کر دی گئی ہے، جس سے اس شعبے میں مزید ترقی متوقع ہے۔ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی کمی کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔
بجٹ تقریر کے مطابق ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد بیرون ملک مالی اثاثوں کو ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ہے۔
خواتین کی صحت سے متعلق ضروری اشیاء، بشمول سینیٹری پیڈز، پر بھی ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس سکیم متعارف کرائی گئی ہے، جو سالانہ 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ٹرن اوور والے تاجروں پر لاگو ہوگی۔ اس کے تحت تاجروں کو سالانہ سیلز کا 1 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا جبکہ انہیں ودہولڈنگ ایجنٹ کی ذمہ داری سے استثنیٰ دیا جائے گا۔ سکیم کے تحت رجسٹرڈ تاجروں کو پی او ایس مشین سے بھی استثنیٰ حاصل ہوگا اور انہیں ایک شناختی تختی اور QR کوڈ فراہم کیا جائے گا۔
بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کا مجموعی ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس کا ہدف 7 ہزار 613 ارب روپے، ان ڈائریکٹ ٹیکسز 7 ہزار 651 ارب روپے، سیلز ٹیکس 4 ہزار 972 ارب روپے جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کا ہدف 1 ہزار 651 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
حکومت نے سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں توسیع اور غیر رجسٹرڈ افراد سے خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کے دائرہ کار کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ساتھ ہی نیشنل فیس لیس سینٹر اور ڈیجیٹل اسسمنٹ سسٹم کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت ٹیکس دہندگان اور افسران کے درمیان براہ راست رابطہ نہیں ہوگا۔
وزیر خزانہ کے مطابق سفید اسپرٹ اور منرل تارپین آئل پر 80 روپے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے تاکہ ان کے غلط استعمال اور ملاوٹ کو روکا جا سکے۔ اسی طرح 2 ہزار سی سی سے بڑی اور 3 ہزار سی سی تک کی گاڑیوں اور لگژری الیکٹرک کاروں پر بھی نئی ڈیوٹیز عائد کی گئی ہیں، جبکہ 3 ہزار سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔
مزید برآں، بزنس کلاس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔