Get Alerts

پاکستان اپنے قومی مفادات، علاقائی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، صدرمملکت

 پاکستان اپنے قومی مفادات، علاقائی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، صدرمملکت

اسلام آباد: پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے افغانستان کی جانب سے جارحیت پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات، علاقائی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کبھی بھی جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی دعووں کو تسلیم نہیں کرے گا، اور عالمی قوانین کے مطابق اس مسئلے کا حل ضروری ہے۔

صدر زرداری نے افغان قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغانستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی آزادی کی جدوجہد سے منہ موڑ کر تاریخی طور پر امت اور حق کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عبوری افغان حکومت کی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کے حملے، جنہیں اقوامِ متحدہ کی رپورٹس بھی تسلیم کرتی ہیں، پاکستان کے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

انہوں نے افغان قیادت سے درخواست کی کہ وہ پاکستان مخالف دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے، کیونکہ خطے میں امن کے لیے "فتنۂ خوارج" اور "فتنۂ ہندوستان" کا گٹھ جوڑ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کا بوجھ کسی ایک ملک پر نہیں ڈالا جا سکتا۔

پاکستان کی جانب سے افغانستان کو فراہم کی گئی سہولتوں اور تعاون کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 40 سال تک افغان عوام کی میزبانی کی، اور امن کی بحالی کے بعد افغان شہریوں کی باعزت واپسی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ صدر زرداری نے پاکستان کی طرف سے افغان عوام کے تعلیمی اور انسانی ضروریات کے لیے جاری تعاون کا عزم بھی ظاہر کیا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون اور معاشی شراکت خطے کے پائیدار امن اور ترقی کی بنیاد ہیں، اور پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خیرخواہ ہے۔

ٹیگز: