Get Alerts

سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے پر غور ، وزیراعظم کی وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف سے رابطے کی ہدایت

سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے پر غور ، وزیراعظم کی وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف سے رابطے کی ہدایت

اسلام آباد: حکومت نے حالیہ تباہ کن بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ایک ماہ کے بجلی کے بلوں سے استثنیٰ دینے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ریلیف صرف مخصوص علاقوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ شہری و دیہی دونوں علاقوں میں متاثرہ عوام کو فائدہ پہنچایا جائے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ مالیاتی ریلیف کے معاملات پر بات چیت کرے تاکہ اس اقدام کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

 حکومت نے اربن فلڈنگ اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی کو ہنگامی بنیادوں پر شہری سیلاب اور جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ کے خلاف ایک جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔

وزارت کے حکام کے مطابق، وزیراعظم نے تمام صوبوں کو "کلائمیٹ ریزیلینس ایکشن پلان" کے اہداف طے کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جس کے تحت شہری علاقوں میں نکاسی آب کا نظام بہتر بنانے اور جنگلات کے تحفظ کے لیے صوبوں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی اس پالیسی پر صوبوں سے رائے طلب کرے گی اور ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آئندہ ممکنہ سیلابی خطرات کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔

 ماہرین کے مطابق پاکستان کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز، بالخصوص شہری سیلاب اور جنگلات کے تیزی سے خاتمے جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے صرف فوری ریلیف کافی نہیں بلکہ ایک طویل مدتی اور مستقل پالیسی کی ضرورت ہے۔ حکومت کے حالیہ فیصلے اس جانب ایک مثبت پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔

ٹیگز: