نئی دہلی: پہلگام واقعے کے پس منظر اور اس کے بعد سامنے آنے والے سیاسی بیانیے پر بھارت میں بھی سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔ بھارتی صحافی اجے شکلا، سابق گورنر ستیا پال ملک، ماہرِ امورِ سکیورٹی ڈاکٹر اجے ساہنی سمیت دیگر شخصیات نے واقعے سے متعلق مختلف شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی ناقدین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پہلگام واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور اس کے ذریعے پاکستان کے خلاف بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی گئی۔ بعض ناقدین نے واقعے کو مودی حکومت کی مبینہ سیاسی حکمتِ عملی سے بھی جوڑا ہے۔
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور بھارتی حکومت کے ناقدین نے بھی واقعے اور اس کے بعد کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ سابق رکن اسمبلی وجے تیواری اور گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور سمیت دیگر ناقدین نے حکومت سے واقعے کے حوالے سے شفاف تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم ان الزامات اور دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق ضروری ہے، جبکہ بھارتی حکومت ان دعوؤں کے بارے میں اپنا مؤقف رکھتی ہے۔