دبئی/واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بادل مزید گہرے ہو گئے۔ امریکی فوج نے ایران کے سمندری راستوں کی باقاعدہ ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، آج سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں کی نقل و حرکت روک دی گئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس عارضی نفاذ کا مقصد ایرانی پورٹس تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔ ناکہ بندی کا دائرہ کار خلیج عرب اور خلیج عمان تک پھیلا ہوا ہے، جہاں امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کی کڑی نگرانی اور ناکہ بندی کر رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی مکمل ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ایرانی بحریہ کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے ناکہ بندی کے وقت کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں ایران کی عسکری طاقت کے حوالے سے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے۔ ان کے بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز نے ایران کے 158 بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں اور اب ایرانی بحریہ سمندر کی تہہ میں جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب صرف چھوٹی کشتیاں باقی بچی ہیں، جنہیں ایرانی حکام "تیز رفتار حملے کرنے والی کشتیاں" قرار دیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ ان چھوٹی کشتیوں کو اپنے لیے کوئی بڑا خطرہ تصور نہیں کرتا۔