اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پیٹرولیم ایکٹ میں ترمیمی بل 2025 متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے، جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی اور بغیر لائسنس کام کرنے پر سخت جرمانے اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ترمیم کے مطابق پہلی بار خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ دوسری بار 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور فروخت کرنے والی جگہ کو سیل کیا جائے گا اور متعلقہ مشینری، آلات، ٹینک اور کنٹینرز ضبط کر کے نیلام کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ، بغیر لائسنس کام کرنے والے پیٹرولیم مراکز کو ایک کروڑ روپے تک جرمانہ اور لائسنس منسوخ کیا جائے گا۔ لائسنس کی تجدید نہ کروانے پر بھی سخت کارروائی ہوگی، جس میں آلات ضبط اور متعلقہ ادارے کی ہدایات کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
اس قانون سازی کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور فروخت کو روکنا اور مارکیٹ میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔