لاہور : پاکستان کرکٹ کے سابق سٹار فاسٹ بولر شعیب اختر آج اپنی 51ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ اپنی غیرمعمولی رفتار، جارحانہ انداز اور شاندار باؤلنگ کی بدولت انہوں نے عالمی کرکٹ میں پاکستان کا نام نمایاں کیا اور دنیا بھر میں "راولپنڈی ایکسپریس" کے نام سے پہچانے گئے۔
شعیب اختر 13 اگست 1975 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن جسمانی مشکلات سے بھرپور رہا، تاہم انہوں نے ہمت اور مسلسل محنت کے ذریعے ان رکاوٹوں کو اپنی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ ان کے دونوں پاؤں کے تلوے پیدائشی طور پر سیدھے تھے، جس کے باعث انہیں چلنے اور کھڑے ہونے میں دشواری کا سامنا رہتا تھا۔
کھیل کے میدان میں شعیب اختر نے اپنی غیرمعمولی رفتار کے ذریعے ایک الگ مقام بنایا۔ انہوں نے نومبر 1997 میں راولپنڈی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور جلد ہی پاکستان کے صفِ اول کے فاسٹ بولرز میں شامل ہوگئے۔
ان کی تیز رفتار گیندوں اور جارحانہ باؤلنگ نے دنیا کے بڑے بڑے بلے بازوں کو بھی مشکل میں ڈالا۔ یہی منفرد انداز انہیں "راولپنڈی ایکسپریس" کے لقب تک لے گیا اور کرکٹ شائقین ان کے باؤلنگ اسپیل کا خاص طور پر انتظار کیا کرتے تھے۔
شعیب اختر نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں 46 ٹیسٹ میچز میں 178 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ 163 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں ان کے نام 247 وکٹیں رہیں۔ انہوں نے مختصر فارمیٹ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی اور اپنی رفتار سے حریف بیٹرز کے لیے مشکلات پیدا کیں۔
شعیب اختر کے کیریئر کا سب سے نمایاں کارنامہ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین گیند پھینکنے کا اعزاز ہے۔ انہوں نے 2003 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرائی، جو 100.23 میل فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ رفتار آج بھی کرکٹ کی تیز ترین ریکارڈ شدہ گیند کے طور پر مشہور ہے۔
بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے کئی برس بعد بھی شعیب اختر کی مقبولیت برقرار ہے۔ ان کی برق رفتار باؤلنگ، جارحانہ شخصیت اور یادگار پرفارمنسز آج بھی دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔
شعیب اختر کو پاکستان کی کرکٹ تاریخ کے ان فاسٹ بولرز میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے رفتار کو کھیل کی ایک نئی پہچان بنا دیا۔