Get Alerts

’نیا بنگلہ دیش‘ وجود میں آگیا، آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم کامیاب، وزیراعظم کے اختیارات محدود

’نیا بنگلہ دیش‘ وجود میں آگیا، آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم کامیاب، وزیراعظم کے اختیارات محدود

ڈھاکہ : بنگلہ دیشی عوام نے ایک تاریخی ریفرنڈم کے ذریعے ملک کے سیاسی اور آئینی ڈھانچے کو مکمل طور پر بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عام انتخابات کے ساتھ ہونے والے اس قومی ریفرنڈم میں 73 فیصد ووٹرز نے مجوزہ آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دے کر ماضی کے سیاسی نظام کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ 33 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔
نئی ترامیم کے بعد بنگلہ دیش کا مستقبل کا سیاسی نقشہ درج ذیل بنیادی تبدیلیوں پر مشتمل ہوگا۔اب کوئی بھی حکومت اپنی مرضی سے اہم آئینی ترامیم نہیں کر سکے گی۔ کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے عوامی ریفرنڈم کا انعقاد لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔صدر اور وزیراعظم کے اختیارات کے درمیان توازن قائم کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کی آمریت یا شخصی اقتدار کا راستہ روکا جا سکے۔
 اب صدر کسی بھی سزا یافتہ مجرم کو اپنی مرضی سے معاف کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے، اس عمل کو قانونی ضوابط سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر اور نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے ریفرنڈم کے نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے اسے ملک کی تاریخ کا اہم ترین موڑ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھاآج ایک نیا بنگلہ دیش وجود میں آگیا ہے۔ عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے ماضی کے بھیانک دور کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جہاں اختیارات کا ناجائز استعمال عام تھا۔
اصلاحات کے حامی    73%
اصلاحات کے مخالف    33%
ان ترامیم کا مقصد بنگلہ دیش میں ایک ایسا جمہوری ڈھانچہ قائم کرنا ہے جہاں اقتدار کسی ایک فرد یا جماعت کے ہاتھ میں مرتکز نہ رہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ریفرنڈم کی شرط عائد کرنے سے اب پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت رکھنے والی جماعتیں بھی آئین کے بنیادی ڈھانچے سے چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکیں گی۔

ٹیگز: