ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں حالیہ 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ایک قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا جس میں 67 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔ یہ ریفرنڈم ایک اہم سیاسی قدم تھا جس سے بنگلہ دیش کے آئینی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں کا راستہ ہموار ہو گا۔
ریفرنڈم میں عوام سے جولائی نیشنل چارٹر کی تجویز پر رائے مانگی گئی تھی، جس کا مقصد ملک میں گڈ گورننس، جمہوریت، اور سماجی انصاف کو مستحکم کرنا اور اقتدار کا ارتکاز روکنا تھا۔ اس چارٹر میں آئینی اداروں کا قیام، پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانا، اور ایوانِ بالا کی منظوری کے بغیر آئینی ترمیم کی اجازت نہ دینے جیسے اہم اصلاحات شامل تھیں۔
عوام کو اس ریفرنڈم میں ایک سوال کے ذریعے اپنی رائے دینے کی اجازت دی گئی تھی، جس میں تقریباً 30 آئینی اصلاحات پر عوامی رائے لی گئی۔ ان اصلاحات میں وزیراعظم کی مدت کے تعین اور صدر کے اختیارات میں اضافے کی تجاویز بھی شامل تھیں تاکہ ملک میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اس کے علاوہ، ریفرنڈم کی وجہ سے یہ بھی واضح ہوا کہ جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے مطالبات کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کہ دراصل عوامی لیگ کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کا ایک اہم حصہ ہے۔