سیاٹل : امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں آج آزاد خالصتان کے قیام کے لیے تاریخی ریفرنڈم منعقد ہو رہا ہے۔ بھارت کی شدید سفارتی مخالفت اور رکاوٹوں کے باوجود امریکی حکومت نے اس رائے شماری کی اجازت دے دی ہے، جس نے نئی دہلی کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑی سبکی پیدا کر دی ہے۔
آج صبح سے ہی امریکہ بھر سے ہزاروں سکھ ووٹرز سیاٹل پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ریفرنڈم کے مراکز پر سکھوں کا غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے، جو اپنے ووٹ کے ذریعے آزاد وطن کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت انتظامات کیے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل شفاف طریقے سے مکمل ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک میں سکھ رہنماؤں کے خلاف قاتلانہ حملوں اور ماورائے عدالت کارروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے، تاہم ان ہتھکنڈوں کے باوجود خالصتان تحریک میں کمی نہیں آئی۔خالصتان ریفرنڈم کی لہر اب دنیا کے بڑے دارالحکومتوں تک پھیل چکی ہے۔ اس سے قبل 23 نومبر 2025 کو کینیڈا میں ریفرنڈم کا کامیاب انعقاد ہوا تھا۔
اب تک لندن، ٹورنٹو، وینکوور، روم، میلان اور جنیوا جیسے شہروں میں لاکھوں سکھ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔
گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت کہتا ہے کہ سکھ ریفرنڈم کا کوئی اثر نہیں، تو پھر وہ بیرونِ ملک سکھ رہنماؤں کو مارنے کے لیے ڈیتھ سکواڈ کیوں بھیجتا ہے؟ مجھے موت سے خوف نہیں، اور میرا یقین ہے کہ پنجاب کی مزاحمتی تاریخ کی وجہ سے بھارت کا نقشہ آئندہ 10 سے 15 سال میں بدل جائے گا۔