ڈھاکہ/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بنگلادیشی درآمدات پر 35 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد، امریکا کے ایک معروف ڈپارٹمنٹل اسٹور نے بنگلادیش سے ملبوسات کے نئے آرڈرز روک دیے ہیں۔
یاد رہے کہ بنگلادیش ٹیکسٹائل مصنوعات کے شعبے میں امریکا کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ ملکی برآمدات کا تقریباً 80 فیصد ان ہی ملبوسات پر مشتمل ہے۔
مقامی صنعتکاروں اور گارمنٹس فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ اگر اگست سے یہ ٹیرف نافذ کیا گیا تو اس سے بین الاقوامی خریداروں کا اعتماد متاثر ہوگا، اور برآمدی آرڈرز میں واضح کمی آنے کا خدشہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکومت کا یہ ممکنہ قدم نہ صرف بنگلادیشی معیشت بلکہ عالمی گارمنٹس انڈسٹری پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مہنگائی میں اضافے، تجارتی دباؤ اور بیروزگاری جیسے مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔
تجارتی تنظیموں اور ماہرین اقتصادیات نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے تاکہ ترقی پذیر ملکوں کو غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔