Get Alerts

قومی اسمبلی سے منظور کردہ 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کا احتجاج

قومی اسمبلی سے منظور کردہ 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش، اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد: قومی اسمبلی سے منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کا نیا مسودہ آج سینیٹ میں پیش کر دیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت جاری اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیمی بل سینیٹ کے سامنے رکھا، جس میں 56 شقوں پر مبنی ترامیم شامل ہیں۔

نئے ترمیمی بل میں آرٹیکل 255، آرٹیکل 214 اور آرٹیکل 168 کی شق دو سمیت دیگر اہم آئینی شقوں میں تبدیلیوں کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم، سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا اور ڈیسک بجا کر نعرے بازی کی۔ ان ترامیم میں کچھ شقوں کو حذف کیا گیا ہے جبکہ چند نئی ترامیم بھی شامل کی گئی ہیں۔

قومی اسمبلی نے اس ترمیم میں 8 اضافی ترامیم کی منظوری دی تھی جن میں آرٹیکل 6 کی شق 2A اور آرٹیکل 10 کی شق 2A میں اہم تبدیلیاں شامل ہیں، جن کا مقصد آئینی عدالتوں اور چیف جسٹس کے عہدے کی وضاحت کرنا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے شدید مخالفت کے باوجود، قومی اسمبلی نے اس بل کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا، جس میں 234 ارکان نے حمایت کی جبکہ جے یو آئی ف نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

اب اس ترمیمی بل کو سینیٹ سے منظور کرانے کی کارروائی کی جائے گی، جس کے بعد وفاقی کابینہ آئینی ترامیم کے تحت قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دے گی۔

ٹیگز: