اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کا 79واں یومِ آزادی ایک باوقار پرچم کشائی کی تقریب کے ساتھ منایا، جس میں مساوات، اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی کی اقدار کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان، سپریم کورٹ کے ججز، رجسٹرار، افسران، عملہ اور ان کے بچے شریک ہوئے۔
پاکستان کی مساوی شہریت اور شمولیت کے عزم کی نمایاں عکاسی اس وقت ہوئی جب اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے بچوں نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججز کے علاوہ پنڈت، مسیحی پادری اور مسلمان عالمِ دین کے ہمراہ قومی پرچم لہرایا۔
پولیس بینڈ نے قومی ترانہ پیش کیا، جس کے دوران شرکا نے قومی جذبے اور حب الوطنی کے ساتھ یومِ آزادی کی خوشیوں میں حصہ لیا۔
مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کی موجودگی نے قومی اتحاد کا مضبوط پیغام دیا اور اس عزم کی تجدید کی کہ پاکستان میں ہر شہری کو برابر کا مقام حاصل ہے۔
تقریب میں اس اصول کو بھی اجاگر کیا گیا کہ ملک اپنی مذہبی تنوع، مشترکہ قومی شناخت اور آئینی اقدار کی پاسداری سے مضبوط ہوتا ہے۔
تقریب کے دوران چیف جسٹس نے شریک بچوں سے گرمجوشی سے ملاقات کی اور انہیں کورٹ روم نمبر ایک کا دورہ بھی کرایا۔ انہوں نے بچوں کو سپریم کورٹ کے کام اور ماحول سے آگاہ کیا.یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں روایتی کیک بھی کاٹا گیا، جس میں چیف جسٹس، سپریم کورٹ کے ججز اور بچوں نے شرکت کی اور قومی خوشی و حب الوطنی کے جذبے کا اظہار کیا۔
یومِ آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں چیف جسٹس نے پاکستان کے عوام اور قانونی برادری کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ملک کے قیام کے پسِ پشت وژن، قربانیوں اور غیر متزلزل عزم کو یاد کرتے ہوئے ان تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جن کی کوششوں سے پاکستان ایک آزاد ملک بنا۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ آزادی کے ساتھ آئینی اصولوں کے تحفظ، شہریوں کے حقوق کے دفاع اور ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کی مسلسل ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے