Get Alerts

بنگلہ دیش میں نیا سیاسی سحر، کیا نو منتخب قیادت بحران زدہ گارمنٹس انڈسٹری کی کشتی پار لگا پائے گی؟

بنگلہ دیش میں نیا سیاسی سحر، کیا نو منتخب قیادت بحران زدہ گارمنٹس انڈسٹری کی کشتی پار لگا پائے گی؟

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں دہائیوں پر محیط سیاسی تسلط کے خاتمے اور حالیہ عام انتخابات کے بعد، اب ملک کی معاشی شہ رگ یعنی 'گارمنٹس انڈسٹری' کی نظریں نئی قیادت پر جمی ہیں۔ 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد ہونے والے یہ پہلے انتخابات ہیں جنہوں نے جہاں ملک کا سیاسی نقشہ بدل دیا ہے، وہی معاشی بحالی کے لیے نئی امیدیں بھی وابستہ کر دی ہیں۔ 1991 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش میں پارلیمانی جمہوریت کی واپسی دو طاقتور خواتین، شیخ حسینہ اور خالدہ ضیا کی غیر موجودگی میں ہوئی ہے۔
عوامی لیگ پر پابندی کے باعث وہ پہلی بار انتخابی میدان سے باہر رہی، جبکہ بی این پی اور پہلی مرتبہ ایک بڑی دعویدار کے طور پر ابھرنے والی جماعت اسلامی آمنے سامنے تھیں۔سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ ان انتخابات نے ملک میں اقتدار کی روایتی تقسیم کو ختم کر کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش کی گارمنٹس انڈسٹری، جو ملکی جی ڈی پی کا 10 فیصد سے زائد ہے، اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ امریکی ٹیرف اور سیاسی بے چینی کی وجہ سے گزشتہ چھ ماہ سے برآمدات میں مسلسل گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔ یہ شعبہ تقریباً 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، جن میں خواتین کی اکثریت ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو لاکھوں خاندانوں کا معاشی مستقبل داؤ پر لگ سکتا ہے۔
صنعت کاروں اور معاشی ماہرین نے نئی قیادت کے سامنے مطالبات کا ایک طویل ایجنڈا رکھ دیا ہے۔ فیکٹریوں کو چلانے کے لیے سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ناگزیر ہے۔ مالیاتی اداروں میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا نئی حکومت کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔مزدوروں کی اجرتوں کے حوالے سے ایک ٹھوس اور شفاف نظام کا نفاذ تاکہ صنعت کو اندرونی خلفشار سے بچایا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اب یہ اعتراف کر لیا ہے کہ بنگلہ دیش کو صرف کپڑوں کی صنعت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ بی این پی اور جماعت اسلامی دونوں نے معیشت کو دیگر شعبوں میں بھی وسعت دینے (Diversification) کا وعدہ کیا ہے۔ اس دوران امریکہ کے ساتھ ہونے والا حالیہ تجارتی معاہدہ ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا ہے، تاہم اس کی باریک بینیوں پر ابھی کام ہونا باقی ہے۔
 بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے لیے جہاں سیاسی خلا کو پُر کرنا ایک چیلنج ہے، وہیں دنیا کے بڑے برانڈز کا اعتماد بحال کرنا اور 40 لاکھ محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ان کی کامیابی کی اصل کسوٹی ہوگی۔

ٹیگز: