Get Alerts

ٹرمپ نے پیوٹن کی بڑی پیشکش ٹھکرا دی: ایرانی یورینیم کی روس منتقلی اور 'حملہ نہ کرنے' کی ڈیل مسترد

ٹرمپ نے پیوٹن کی بڑی پیشکش ٹھکرا دی: ایرانی یورینیم کی روس منتقلی اور 'حملہ نہ کرنے' کی ڈیل مسترد

واشنگٹن/ماسکو :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی وہ اہم پیشکش مسترد کر دی ہے جس کے تحت ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو روس منتقل کیا جانا تھا۔ یہ پیشکش ایران پر ممکنہ اسرائیلی اور امریکی حملوں کو روکنے کے لیے ایک بڑی سفارتی ڈیل کا حصہ سمجھی جا رہی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، روسی صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو ٹیلی فون کر کے ایک فارمولا پیش کیا تھا تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگ کو روکا جا سکے۔ اس ڈیل کے اہم نکات درج ذیل تھے۔ ایران کا تمام افزودہ یورینیم روس منتقل کر دیا جائے تاکہ ایٹمی ہتھیاروں کے خدشات ختم ہوں۔ بدلے میں امریکہ اور اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں سے باز رہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس اس وقت 450 کلوگرام افزودہ یورینیم موجود ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ     اس ذخیرے سے 10 سے زائد جوہری بم تیار کیے جا سکتے ہیں۔    یہی وجہ ہے کہ ایرانی یورینیم اور اس کی افزودگی کے مراکز امریکہ اور اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر سب سے اوپر ہیں۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کیے جانے کے بعد دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اب ایران کے خلاف "انتہائی دباؤ" (Maximum Pressure) کی پالیسی کو مزید سخت کرے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یورینیم کی محض منتقلی کافی نہیں بلکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل اور مستقل طور پر ختم کرنا ہوگا۔
اس انکار کے بعد خطے میں فوجی کارروائی کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔ اسرائیل پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا، اور ٹرمپ کا یہ فیصلہ اس موقف کو مزید تقویت دیتا ہے۔

ٹیگز: