Get Alerts

امریکہ اور عراقی مزاحمت میں 'انعامی جنگ' چھڑ گئی: ایرانی قیادت پر کروڑوں ڈالر، امریکی فوج پر لاکھوں ڈالر کا انعام

امریکہ اور عراقی مزاحمت میں 'انعامی جنگ' چھڑ گئی: ایرانی قیادت پر کروڑوں ڈالر، امریکی فوج پر لاکھوں ڈالر کا انعام

واشنگٹن / بغداد:مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب میزائلوں اور ڈرونز سے نکل کر انٹیلی جنس کی خطرناک جنگ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ امریکہ نے ایرانی سپریم لیڈر کے صاحبزادے سمیت 10 اہم شخصیات کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے، جس کے جواب میں عراقی مزاحمتی تنظیم نے بھی امریکی فوجیوں کے سروں کی قیمت مقرر کر دی ہے۔
امریکی حکومت نے ایران کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے 10 اہم عہدیداروں کا پتہ بتانے یا گرفتاری میں مدد دینے پر 10 ملین ڈالر (ایک کروڑ ڈالر) انعام کا اشتہار جاری کیا ہے۔ ان ناموں میں     مجتبیٰ خامنہ ای،    کلیدی عہدیدار: علی لاریجانی (قومی سلامتی مشیر)، اسماعیل خطیب (وزیر انٹیلی جنس) اور علی اصغر حجازی، میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی اور بریگیڈیئر جنرل اسکندر مومنی شامل ہیں۔
امریکہ کے اس ہتھکنڈے کے جواب میں عراق کی اسلامی مزاحمتی تنظیم نے بھی بڑی پیشکش کر دی ہے۔ تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ جو شہری عراق میں موجود امریکی فوج کے خفیہ ٹھکانوں یا ان کی نقل و حرکت کی درست معلومات فراہم کرے گا، اسے ایک لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ قدم امریکی "انعامی لالچ" کا ترکی بہ ترکی جواب ہے۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے انعامات کا اعلان خطے میں جاسوسی کے نیٹ ورکس کو متحرک کر دے گا۔ جہاں امریکہ ایرانی قیادت کو کمزور کرنا چاہتا ہے، وہیں عراقی تنظیموں کی جانب سے امریکی فوج کی مخبری پر انعام کا اعلان خطے میں موجود امریکی اہلکاروں کی زندگیوں کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

ٹیگز: