لاہور :پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے ہیڈ کوارٹر میں آج ایک اہم دن رہا جہاں سلیکشن کمیٹی کے اراکین نے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کی اور بعد ازاں پریس کانفرنس میں ٹیم کی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر کھل کر بات کی۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کے دوران انہیں مکمل بااختیار (Free Hand) بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ٹیم کی سلیکشن میں اب کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی، تمام تر ذمہ داری اور فیصلے سلیکشن کمیٹی کے ہوں گے۔
قومی سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کے خطاب کے اہم نکات یہ تھے ،ان کاکہنا تھا کہ ٹیم سے جو امیدیں تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔ ہمیں کم از کم سیمی فائنل تک ضرور پہنچنا چاہیے تھا۔
عاقب جاوید نے واضح کیا کہ "میرا کام کھلاڑی منتخب کرنا ہے، میدان میں فائنل الیون کھلانے کا اختیار صرف کپتان اور کوچ کے پاس ہوتا ہے۔سلیکٹرز اس وقت 'نیشنل ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ' پر نظریں جمائے ہوئے ہیں تاکہ وہاں سے بہترین پرفارمرز کو قومی ٹیم میں لایا جا سکے۔
سابق کپتان اور سلیکشن کمیٹی کے رکن سرفراز احمد نے سلیکشن کے عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تسلسل (Consistency) کو برقرار رکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا "کسی بھی کھلاڑی کو صرف ایک میچ یا ایک پرفارمنس کی بنیاد پر نہ تو ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی باہر نکالا جا سکتا ہے۔ کھلاڑیوں کو موقع دینا ضروری ہے۔
سلیکشن کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب میرٹ پر توجہ دی جائے گی اور ڈومیسٹک کرکٹ میں جان مارنے والے کھلاڑیوں کو ترجیح ملے گی۔ چیئرمین پی سی بی کی جانب سے ملنے والے 'فری ہینڈ' کے بعد اب شائقینِ کرکٹ کو ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کی توقع ہے۔