Get Alerts

کفایت شعاری مہم: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد تک کٹوتی کا بڑا فیصلہ

کفایت شعاری مہم: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد تک کٹوتی کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال اور عوامی ریلیف کے حوالے سے انتہائی اہم اور دور رس فیصلے کیے گئے ہیں۔ حکومت نے سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کر کے حاصل شدہ رقم کو براہِ راست عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
 حکومتی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 فیصد سے لے کر 30 فیصد تک کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا اور جمع شدہ فنڈز کو غریب طبقے کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ تنخواہوں سے ہونے والی اس کٹوتی کو اشیائے خوردونوش پر سبسڈی اور دیگر فلاحی منصوبوں کے لیے وقف کیا جائے گا تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جا سکے۔
وزیرِ اعظم نے وزراء، معاونینِ خصوصی اور سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ زرمبادلہ کی بچت اور حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومتی سطح پر بچت کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومتی مشینری کو قربانی دینی ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرکاری وسائل کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہر ممکنہ بچت کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے گا۔

ٹیگز: