اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں مشرق وسطیٰ کی جنگی صورتحال، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ملکی سلامتی کے چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پاکستان کے اختیار میں نہیں ہیں، تاہم حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ میں جاری شدید جنگی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ میں جاری شدید جنگی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 60 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں، جس کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑ رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا میرا دماغ کہتا تھا کہ معیشت بچانے کے لیے قیمت بڑھاؤ، لیکن دل کہتا تھا کہ غریب عوام کا کیا ہوگا۔ میں اس کشمکش میں مبتلا تھا، لیکن معیشت کے استحکام کے لیے مشکل فیصلے ناگزیر تھے۔
وزیراعظم نے خبردار کیا کہ آئندہ چند دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم حکومت کی بھرپور کوشش ہوگی کہ اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ پڑے۔وزیراعظم نے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے اشرافیہ کو اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور سرکاری سطح پر بڑے فیصلے کا اعلان کیا آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی کا اعلان کر دیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ اشرافیہ آگے بڑھے اور ملکی معیشت کو سہارا دے۔ملکی سلامتی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا مغربی سرحدوں پر پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا ہے، لیکن پاک افواج دشمن کے عزائم ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک افواج ملکی سلامتی کے لیے دن رات کوشاں ہیں اور وہ انہیں دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے حکومتی مشینری کے اخراجات کم کرنے کے لیے درج ذیل سخت اقدامات کا حکم دیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے تمام ارکان آئندہ دو ماہ تک اپنی تنخواہیں (Salaries) نہیں لیں گے۔ تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں فوری طور پر 20 فیصد کمی لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزراء، مشیران اور سرکاری عہدیداروں کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری سطح پر دیے جانے والے عشائیوں اور افطار پارٹیز پر بھی پابندی ہوگی۔
تیل کی کھپت کو کم کرنے کے لیے حکومت نے دفاتر کے اوقاتِ کار میں بڑی تبدیلی کی ہے ۔ملک میں تیل کی بچت کے لیے ہفتے میں صرف 4 دن دفاتر کھلیں گے، جبکہ 3 دن تعطیل ہوگی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ہفتہ وار 3 چھٹیوں کے فیصلے کا اطلاق بینکوں پر نہیں ہوگا، تاکہ مالیاتی لین دین متاثر نہ ہو۔ آئندہ دو ماہ کے لیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔وزیراعظم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے انتظامیہ کو سخت احکامات جاری کیے ہیں۔پٹرول اور ڈیزل کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعظم نے اشرافیہ اور حکومتی مشینری کے لیے درج ذیل سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی کابینہ کے ارکان آئندہ 2 ماہ تک تنخواہ نہیں لیں گے۔تمام محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کے استعمال پر پابندی، پٹرول کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی ہوگی۔ دورے و تقریبات وزراء کے غیر ملکی دوروں، سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔تمام سرکاری محکموں کے اخراجات میں فوری طور پر 20 فیصد کمی کی گئی ہے۔