تحریر: طارق وسیم
ایران اسرائیل جنگ کو 14 روز ہو چلے ہیں ،امریکی صدر کے مطابق ان کی فورسز نے ایران کا انفرا سٹرکچر تباہ کر دیا ہے۔میزائل ختم ہو چکے ہیں ،ڈرونز بنانے والی کوئی فیکٹری سلامت نہیں جبکہ افزودہ یورینیم کی ایک بڑی مقدار ایران ماؤنٹ کرک پر واقع ایک کمپلیکس میں منتقل کر چکا ہے جو ایک دشوار گزار علاقے میں واقع اور زمین کی گہرائی میں ہے ، اس کمپلیکس میں 441 کلو گرام انتہائی افزودہ یورینیم موجود ہے جو 60فیصد افزودگی مکمل ہونے کے بعد تقریباً ایک درجن جوہری وارہیڈز بنانے کے لیے کافی ہوگی ،لیکن امریکہ کا ماننا ہے کہ اس سے 11 بم تیار کیے جا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ 30 سے 40 فیصد تک افزودہ 8 ہزار کلو گرام یورینیم بھی ایران کے پاس موجود ہے اور افزودگی کی صلاحیت بحال ہونے کی صورت میں ،اس میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔ دنیا کے معروف ترین دست شناس کیرو نے امریکہ کو ہاتھ کی بناوٹ کے لحاظ سے انجینئرز کی قوم قرار دیا تھااور ان کا کہنا تھا کہ میتھ میٹکس کی شاندار قابلیت کی حامل یہ قوم دنیا کو لیڈ کرے گی لیکن ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ایک خاص حد سے زیادہ نہیں ہے ۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور ان سے قبل امریکہ کے دیگر صدور بھی مختلف ممالک پر لشکر کشی سے قبل اسی قسم کے بیانات دیتے رہے ہیں، جو دراصل امریکی عوام کی تسلی کے لیے ہوتے ہیں ،دنیا پہلے بھی ان پر یقین نہیں کرتی تھی اب بھی نہیں کر رہی ،عراق کے خلاف آپریشن ڈیزرٹ سٹورم شروع کرنے سے قبل جارج بش سینئر نے دعویٰ کیا تھا کہ صدام حسین کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں ،جنگ ہو گئی ،صدام کو پھانسی دے دی گئی ۔ عراق کھنڈر بن گیا لیکن وہ کیمیائی ہتھیار ملنے تھے نہ ملے ۔شام میں بشار الاسد کے خلاف کارروائی سے قبل بھی یہی موقف رکھا گیا کہ وہ اپنی عوام پر کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے ،بشار الاسد کی حکومت ختم ہو گئی وہ بھاگ کر ماسکو چلا گیا لیکن کیمیائی ہتھیار نہ مل سکے ۔
بھارت جس نے ایران کے بحری جہاز آئرس ڈینا کو کھلے سمندر میں نشانہ بنانے اور 86 ایرانی اہلکاروں کی موت میں اہم ترین کردارا دا کیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اپنے ہاتھوں سے جہاز ڈبویا اور عملے کو مروایا اس کے ایک احمق کاروباری شخص مکیش امبانی کو امریکہ میں ریفائنری بنانے کا ٹھیکہ دیا جا رہا ہے۔ مکیش امبانی کا اس شعبے میں نہ تو خاص تجربہ ہے اور نہ ہی وہ اپنے والد دھیرو بھائی امبانی اور بھائی انیل امبانی کی طرح کوئی سمجھدار کاروباری شخصیت ہے ،مکیش اور اس کی فیملی کو بھارتی کاروباری حلقوں میں ڈفرز کے نام سے پکارا جاتا ہے اور اس کی واحد قابلیت نریندر مودی کا وفادار ہونا ہے۔مودی دو ر کے خاتمے پر دنیا کو پتہ چلے گا کہ امبانی اور اڈانی مودی سے مل کر کس طرح بھارتی ٹیکس پیئرز کو لوٹتے رہے اور کیوں ٹاٹا گروپ اور ان جیسے دیگر وضح دار لوگ اس گندگی سے باہر رہے ، اپنے لوگوں کی شہادت اور دوستوں کے ہاتھوں بحری جہاز غرق کرانے والی ایرانی حکومت کے نئی دلی میں سفیر محمد فتحلی کہتے ہیں،انہیں بھارت سے کوئی شکایت نہیں ،وہ ہمارا دوست ہے ،ایران اور بھارت کا عقیدہ بھی ایک ہی ہے۔ نجانے وہ کس عقیدے کی بات کر رہے تھے ،بھارت کا اسرائیل سے نظریاتی اتحاد ضرور ہے،شاید ایرانی سفیر بھی اس میں پارٹنر ہونے کا ذکر کرنا چاہتے تھے لیکن گول مول انداز میں ،جہاں تک ایران کی فوج اور حربی صلاحیت کا تعلق ہے تو وہ کبھی تھی ہی نہیں ۔یورینیم افزودہ کرنے کے لیے ان کے پاس نہ تو سنٹری فیوجز ہیں ، نہ ایسی قابلیت کہ وہ ایٹم بم بنا سکیں ،تاریخی طور پر ان کے اسرائیل سے تعلقات بھی بہترین رہے ہیں ۔ایران کی پارلیمنٹ جو کبھی عوام کے ووٹ سے وجود میں نہیں آئی اس میں یہودیوں کی 3 نشستیں بھی مختص ہیں۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ کہانیاں سطحی قابلیت کی حامل امریکی قوم کو تو سوٹ کرتی ہیں باقی دنیا ان پر یقین نہیں کرتی ،موجودہ ایرانی رجیم نے 47 سال سے ملک پر تسلط جما رکھا ہے ،70 فیصد عوام ان کے خلاف ہیں ،زندگی کا ہر شعبہ تباہ کر دیا ۔
بڑھکیں مارنے کے سوا کبھی کچھ کیا نہیں ،موجود جنگ میں 90 فیصد اے آئی جنریٹڈ فوٹیجز سے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ ہم جنگ لڑ رہے ہیں ،آبنائے ہرمز کی بندش صرف امریکہ کے لیے ہے باقی دنیا کے جہاز با آسانی گزر رہے ہیں ،کیونکہ 32 کلومیٹر کی یہ سمندری پٹی کسی بھی وقت کوئی بھی ان سے چھین سکتا ہے ،لیکن حیرت انگیز طور پر تاریخ ان کی بھی 6 ہزار سال کی ہے ،جیسے ہمارے مغربی ہمسائے کی 5 ہزار سالہ تاریخ ہے ۔ پتہ نہیں یہ کون سے تاریخ ہے جسے دنیا جانتی ہے نہ مانتی ہے ،معلوم انسانی تاریخ میں مصر کی تہذیب 8 ہزار سال پرانی ہے ،ماینز کی تہذیب 10 ہزار سال پرانی ہے ،اور سندھ کی تہذیب15 ہزار سال پرانی اور دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے ،جس خطے میں ایران واقع ہے وہاں کی قدیم ترین تہذیب پالمیرا کی ہے جس کا ایران سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ساڑھے چار ہزار سال پرانی ہے ،وادی جنین جس میں اسرائیل ، فلسطین،مصر ،عراق، شام،لیبیا اور اور کچھ افریقی ممالک شامل ہیں 10 ہزار سال پرانی ہے۔ لیکن کہیں کوئی ایرانی تہذیب نہیں ملتی ،ہاں سائرس اعظم کی حکومت اور چند آتش پرستوں کی 2 ہزار سال پرا نی تاریخ اس علاقے سے ضرور منسوب ہے ، لیکن اب کیا کر سکتے ہیں5ہزار سالہ تاریخ والا ہمسایہ گیارہویں صدی کے 2 ڈرون ہری پور سے اڑا کر اعلان کرتا ہے کہ اس نے اسلام آباد پر حملہ کر دیا،جب ڈرون اڑانے والا پکڑا جاتا ہے تو رونے لگتا ہے کہ اسے افغانیوں نے پیسے دیے تھے اور ڈرون بھارت نے افغانستان کو دیے ہیں ۔ چھ ہزار سالہ تاریخ والے کہتے ہیں دیکھا علی لاریجانی اور مسعود پزشکیان جمعے کی نماز عوام میں پڑھ رہے ہیں اور ان میں گھل مل گئے ہیں،آپ سچے ہیں حضور،ہماری ہی تاریخ بڑی محدود ہے۔
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے۔