ہانگ کانگ میں گھریلو خادمائیں بیت الخلا میں سونے پر مجبور

ہانگ کانگ میں گھریلو خادمائیں بیت الخلا میں سونے پر مجبور

کوالالمپور:ہانگ کانگ میں گھریلوخادماں کی حالت کافی خستہ ہے اور انہیں بیت الخلا، باورچی خانہ، چھوٹے کمروں اور بالکنی میں سونے کے لئے مجبور ہونا پڑتا ہے ۔مہاجر کارکنوں کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم نے اپنے ایک سروے میں انکشاف کیا ہے کہ ہانگ کانگ میں خادماں کی رہن سہن کی حالت کافی خوفناک ہے۔

ان گھریلو خادماں کو بیت الخلا، چھوٹے چھوٹے کمروں اور بالکنی میں سونا پڑ تا ہے ۔انسانی حقوق کی تنظیم مشن فار مائگرینٹ(ایم ایف ایم ڈبلیو)نے کہا ہے کہ شہر میں 350000خادمائیں ہیں جو زیادہ تر فلپائن اور انڈونیشیا کی رہنے والی ہیں۔ پانچ گھریلوخادمائوں میں سے تین خادمہ بدترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

کئی بار ان کی صحت اور سیکورٹی کو شدید خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ۔تین ہزار خادماں پرکئے گئے سروے میںایم ایف ایم ڈبلیو نے پایا کہ 43فیصد خادمائوں کے پاس اپنا خود کا کمرہ تک نہیں ہے اور انہیں اسٹور روم، باورچی خانہ، بیت الخلا، تہہ خانوں اور بالکنی میں سونے کے لئے کہا جاتا