Get Alerts

بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کے پاکستان سفر پر پابندی، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر صورتحال غیر یقینی

بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کے پاکستان سفر پر پابندی، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر صورتحال غیر یقینی

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے سکھ یاتریوں کے پاکستان میں داخلے پر پابندی کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے لیے طے شدہ یاترا غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 500 سکھ یاتریوں نے 30 جون کو برسی کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے 7 مئی سے سکھ یاتریوں کی آمد پر پابندی عائد کی ہوئی ہے، جس کے بعد نہ صرف کرتارپور راہداری کو بند کیا گیا بلکہ بعض علاقوں میں سکھ برادری کو دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق یہ پابندی 1950 کے دو طرفہ معاہدے کی روح کے خلاف ہے، جس کے تحت سکھ یاتریوں کو سال میں چار مذہبی مواقع پر پاکستان آنے کی اجازت حاصل ہے، جن میں گرو ارجن دیو کی برسی، گرو نانک دیو جی کا جنم دن، بیساکھی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی شامل ہیں۔

برطانوی اور بین الاقوامی ادارے اس پابندی کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں، جب کہ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے اندر اقلیتوں، خصوصاً سکھوں اور مسلمانوں، کے خلاف ریاستی رویہ تشویش ناک حد تک بڑھتا جا رہا ہے۔

ٹیگز: