کراچی: محکمہ یونیورسٹی اینڈ بورڈز سندھ نے نویں سے بارہویں جماعت تک نیا گریڈنگ سسٹم تیار کر لیا ہے جو آئندہ تعلیمی سال سے نافذ العمل ہو گا۔ نیا سسٹم طلبہ کی کارکردگی کو گریڈز کی بنیاد پر جانچے گا، جس سے کل نمبرز اور پرسنٹیج کی بجائے زیادہ شفاف اور منصفانہ نتائج فراہم کیے جائیں گے۔
نئے گریڈنگ سسٹم میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پاسنگ مارکس کو 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے طلبہ کو مزید محنت کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ گریڈز کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے:
50 تا 59 فیصد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو ڈی گریڈ ملے گا۔
60 تا 69 فیصد پر سی گریڈ۔
70 تا 74 فیصد پر بی گریڈ۔
75 تا 79 فیصد پر بی پلس۔
80 تا 84 فیصد پر بی پلس پلس۔
85 تا 89 فیصد پر اے گریڈ۔
90 تا 94 فیصد پر اے پلس۔
95 تا 100 فیصد پر اے پلس پلس گریڈ دیا جائے گا۔
محکمہ یونیورسٹی اینڈ بورڈز کا کہنا ہے کہ یہ نیا سسٹم بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہے اور اس سے طلبہ کی کارکردگی کا منصفانہ انداز میں تعین ممکن ہو گا۔ نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت طلبہ کی کارکردگی کا جائزہ زیادہ واضح اور بہتر انداز میں لیا جا سکے گا، جو ان کے تعلیمی سفر میں اہم تبدیلی لائے گا۔