تہران : ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔ تہران میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ اتوار سے دونوں جانب سے سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے امکانات روشن ہیں۔
ترجمان اسماعیل بقائی نے خطے کے استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے ذریعے موصول ہونے والے پیغامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستانی وفد کے جلد دورہ تہران کا قوی امکان ہے۔ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان متعدد پیغامات بھیجے جا چکے ہیں۔
ایرانی ترجمان نے ایران پر لگائے جانے والے جوہری الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا اور یہ الزام سراسر غلط ہے کہ تہران چند دنوں میں ایٹم بم بنا لے گا۔ جس جوہری پروگرام کا وجود ہی نہیں، اسے بنیاد بنا کر ایران کو دہشت گردی اور عالمی دباؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اپنی اصولی پالیسیوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔"ایران لبنان کی مزاحمت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور اس موقف سے پیچھا نہیں ہٹا۔ تہران کا موقف واضح ہے اور ہم نیک نیتی کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔