تہران / اسلام آباد: پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان بیک ڈور مذاکرات کا عمل کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی حالیہ تجاویز پر تہران اور واشنگٹن نے اپنے اپنے باقاعدہ مؤقف سے ایک دوسرے کو آگاہ کر دیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کی میز پر اس کے بنیادی مطالبات میں امریکا کی جانب سے منجمد کیے گئے ایرانی فنڈز کی فوری بحالی اور تمام اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سمیت خطے کے کسی بھی ملک کے ساتھ ایران کی کوئی دشمنی نہیں ہے، تاہم اگر کوئی جارحیت کی گئی تو ایران اپنے دشمن کو جواب دینا بخوبی جانتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے کہ گیدڑ بھبکیوں یا معاشی دباؤ کے ہتھکنڈوں سے تہران کو اس کے حقوق سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔
اسی سفارتی متحرک پن کے دوران، علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ایرانی اور عمانی تکنیکی ٹیموں نے گزشتہ ہفتے عمان میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں دنیا کی حساس ترین تجارتی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت اور سکیورٹی کے فول پروف طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا۔