Get Alerts

افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن گیا: یورپی جریدے "ماڈرن ڈپلومیسی" نے پاکستانی مؤقف کی تائید کر دی

افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن گیا: یورپی جریدے

برسلز / اسلام آباد: معروف یورپی جریدے "ماڈرن ڈپلومیسی" نے اپنی حالیہ رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی مؤقف کی تائید کی ہے کہ طالبان رجیم کے زیرِ سایہ دہشت گرد تنظیمیں ایک بار پھر سرگرم ہو چکی ہیں، جس سے پڑوسی ممالک کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان اپنی حکومت کے غیر قانونی اقتدار کو طول دینے اور اسے تحفظ فراہم کرنے کے لیے فتنہ الخوارج سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کو نہ صرف پناہ دے رہے ہیں بلکہ انہیں مالی اور عسکری وسائل بھی فراہم کر رہے ہیں۔ جریدے کے مطابق، یہ گروہ افغان سر زمین کو پڑوسی ممالک بالخصوص پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ماڈرن ڈپلومیسی کی رپورٹ نے ان حقائق کو اجاگر کیا ہے جن پر پاکستان عرصے سے عالمی برادری کی توجہ مبذول کروا رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق     افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک ٹائم بم کی مانند ہیں۔    طالبان انتظامیہ عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے برعکس دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔    طالبان کی یہ پالیسی خطے کے معاشی اور دفاعی استحکام کو سبوتاژ کر رہی ہے۔
جریدے نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان طالبان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی بند نہ کی تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ آگ وسطی ایشیا اور دیگر پڑوسی ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپی جریدے کی یہ رپورٹ طالبان رجیم پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ٹیگز: